Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
241 - 601
ہو اسے دنیا کی تعلیم دلوانے کی طرف توجہ کرنے اور اس پر اپنا مال خرچ کرنے کو بیکار اور فضول کام سمجھتے ہیں اوراسے کسی دینی مدرسے میں داخل کروا کے اپنے سر سے بوجھ اتار دیتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت نصیب فرمائے،اٰمین۔
قَالَ اَبَشَّرْتُمُوۡنِیۡ عَلٰۤی اَنۡ مَّسَّنِیَ الْکِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوۡنَ ﴿۵۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: کہا کیا اس پر مجھے بشارت دیتے ہو کہ مجھے بڑھاپا پہنچ گیا اب کاہے پر بشارت دیتے ہو۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: فرمایا: کیا تم مجھے بشارت دیتے ہوحالانکہ مجھے بڑھاپا پہنچ چکا ہے تو کس چیز کی بشارت دے رہے ہو؟ 
{قَالَ:فرمایا۔} یعنی جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بیٹے کی بشارت دی تو وہ اپنے اور زوجہ کے بڑھاپے کی وجہ سے حیران ہوئے اور فرشتوں سے فرمایا ’’اتنی بڑی عمر میںاولاد ہونا عجیب وغریب ہے ،ہمارے ہاں کس طرح اولاد ہوگی؟ کیا ہمیں پھر جوان کیا جائے گا یا اِسی حالت میں بیٹا عطا فرمایا جائے گا ؟ (1)
	تنبیہ: حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ تعجب اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت پر نہیں بلکہ عادت کے برخلاف کام ہونے پر تھا کہ عموماً بڑھاپے میں کسی کے ہاں اولاد نہیں ہوتی۔ (2)
قَالُوۡا بَشَّرْنٰکَ بِالْحَقِّ فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الْقٰنِطِیۡنَ ﴿۵۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: کہا ہم نے آپ کو سچی بشارت دی ہے آپ ناامید نہ ہوں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:انہوں نے عرض کیا: ہم نے آپ کو سچی بشارت دی ہے، آپ ناامید نہ ہوں۔
{قَالُوۡا:انہوں نے عرض کیا۔} فرشتوں نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کیا ’’ہم نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللّٰہ تعالیٰ کے اس فیصلے کی سچی بشارت دی ہے کہ  آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہاں بیٹا پیدا ہوگا اور اس کی اولاد
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۴، ۳/۱۰۴، تفسیرکبیر، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۴، ۷/۱۵۱، ملتقطاً۔
2…صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۴، ۳/۱۰۴۶، ملخصاً۔