’’وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسْتَکْبِرُوۡنَ عَنْ عِبَادَتِیۡ سَیَدْخُلُوۡنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیۡنَ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا بیشک وہ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کرجہنم میں جائیں گے۔
(6)…مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنا۔ چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیۡہَا وَغَضِبَ اللہُ عَلَیۡہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کا بدلہ جہنم ہے عرصہ دراز تک اس میں رہے گااور اللّٰہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
وَنَبِّئْہُمْ عَنۡ ضَیۡفِ اِبْرٰہِیۡمَ ﴿ۘ۵۱﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور انہیں احوال سناؤ ابراہیم کے مہمانوں کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کااحوال سناؤ۔
{وَنَبِّئْہُمْ:اور انہیں احوال سناؤ۔} اس سورت میں سب سے پہلے اللّٰہ تعالیٰ نے سیّدُ المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت پر دلائل دئیے، اس کے بعد توحید پر دلائل ذکر فرمائے، پھر حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تخلیق اور اس سے متعلق واقعات بیان فرمائے، پھر سعادت مندوں اور بد بختوں کے احوال بیان کئے اوراس آیت سے اللّٰہ تعالیٰ نے بعض انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے واقعات بیان فرمائے تاکہ ان واقعات کو سن کر لوگ عبرت حاصل کریں اور ان میں عبادت کا ذوق وشوق پیدا ہو۔ سب سے پہلے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان فرمایا، پھر حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا واقعہ، پھر حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا واقعہ اور آخر میں حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان فرمایا۔ چاروں انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات یہاں اِختصار کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں ، ان واقعات
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مومن:۶۰۔ 2…النساء:۹۳۔