Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
239 - 601
کی تفصیل سورۂ ہود میں موجود ہے۔ (1)
{عَنۡ ضَیۡفِ اِبْرٰہِیۡمَ:ابراہیم کے مہمانوں کا۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میرے بندوں کو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مہمانوں کا احوال سنائیں جنہیں ہم نے اس لئے بھیجا تھا کہ وہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بیٹے کی بشارت دیں اور حضرت لوطعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کو ہلاک کریں تاکہ میرے بندے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر آنے والے عذاب ، اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضی اور مجرموں سے لئے گئے انتقام کو دیکھ کر عبرت حاصل کریں اور انہیں یقین ہو جائے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب ہی سب سے سخت ہے۔ (2)یاد رہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مہمان کئی فرشتے تھے اور ان میں حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام بھی تھے۔ (3)
اِذْ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ اِنَّا مِنۡکُمْ وَجِلُوۡنَ ﴿۵۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: جب وہ اس کے پاس آئے تو بولے سلام کہا ہمیں تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:جب وہ اس کے پاس آئے تو کہنے لگے: ’’سلام ‘‘ابراہیم نے فرمایا:ہم تم سے ڈر رہے ہیں۔ 
{اِذْ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ:جب وہ اس کے پاس آئے ۔} یعنی فرشتے جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس آئے تو انہوں نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو سلام کیا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تعظیم و توقیر کی۔حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان سے فرمایا ’’ہم تم سے ڈر رہے ہیں ۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مہمانوں سے خوف کھانے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ اجازت کے بغیر اور بے وقت آئے تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ مہمانوں نے ان کا پیش کردہ بھنا ہوا بچھڑا کھانے سے انکارکر دیا تھا اور اس دور میں مہمان کا کھانے سے ا نکار کر دینا دشمنی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ (4)
قَالُوۡا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ ﴿۵۳﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳/۱۰۴۶۔
2…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳/۱۰۴، مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۱، ۵۸۳، ملتقطاً۔
3…جلالین، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۱، ص۲۱۳۔
4…ابوسعود، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۲، ۳/۲۳۰، بیضاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۲، ۳/۳۷۴، ملتقطاً۔