اعتراف کرتا ہے۔‘‘اس میں جس طرح اطاعت گزار مومن داخل ہے اسی طرح گناہگار مومن بھی اس میں داخل ہے اور یہ سب باتیں اس چیز پر دلالت کرتی ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت (اس کے غضب پر) غالب ہے۔ (1)
اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے:
اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت کا اس کے غضب پر غالب ہونے کا ذکر کثیر اَحادیث میں صراحت کے ساتھ بھی موجود ہے، چنانچہ صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ترمذی اور ابن ما جہ وغیرہ میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب اللّٰہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا فرما چکا تو لوحِ محفوظ میں جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے،لکھ لیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی ہے۔ (2)
صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ (3)دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے غضب سے محفوظ فرمائے اور اپنی رحمت سے ہمیں بھی حصہ عطا فرمائے، اٰمین۔
{وَ اَنَّ عَذَابِیۡ:اوربیشک میرا عذاب۔} یاد رہے کہ جو کفر کی حالت میں مرا وہ تو جہنم کے دردناک عذاب میں ہمیشہ کے لئے مبتلا ہو گا البتہ جو گناہگار مسلمان اپنے گناہوں سے توبہ کئے بغیر انتقال کر گیا تو اس کا معاملہ اللّٰہ تعالیٰ کی مَشِیَّت پر موقوف ہے کہ وہ چاہے تو اُسے گناہوں کی سزا دے یا چاہے تو اپنی رحمت سے اس کے تمام گناہ بخش دے اور اسے جنت عطا فرما دے۔
اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہونے کے اَسباب:
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ جس طرح بہت سے اسباب ایسے ہیں جن سے بندے کو اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت حاصل ہو تی ہے اسی طرح بہت سے اسباب ایسے بھی ہیں جن سے بندہ اللّٰہ تعالیٰ کے شدید اور دردناک عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے ،ان میں سے 6 اَسباب یہاں ذکر کئے جاتے ہیں، ان اسباب میں کئی جگہ قدرِ مُشترک بھی ہے لیکن اپنے ظاہر کے اعتبار سے جدا جدا ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۹، ۷/۱۴۹۔
2…بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء فی قول اللّٰہ تعالی: وہو الذی یبدأ الخلق۔۔۔الخ، ۲/۳۷۵، الحدیث: ۳۱۹۴۔
3…مسلم، کتاب التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللّٰہ تعالی وانّہا سبقت غضبہ، ص۱۴۷۱، الحدیث: ۱۵(۲۷۵۱)۔