لیتا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے پاس کتنا عذاب ہے تو کوئی بھی اس کی جنت کی امید نہ رکھتا اور اگر کافر جان لیتا کہ اللّٰہتعالیٰ کے پاس کتنی رحمت ہے تو اس کی جنت سے کوئی ناامید نہ ہوتا ۔ (1)
یہاں امید اور خوف کے درمیان رہنے کی ایک بہترین صورت ملاحظہ ہو،چنانچہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا ’’ اگر آسمان سے کوئی اعلان کرنے والا یہ اعلان کرے کہ’’ اے لوگو! تم سب کے سب جنت میں داخل ہو جاؤ گے لیکن ایک شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ تو میں اس بات سے ضرور ڈروں گا کہ کہیں وہ شخص میں ہی نہ ہوں ،اور اگر اعلان کرنے والا یہ کہے کہ اے لوگو! تم سب جہنم میں جاؤ گے البتہ ایک شخص جہنم میں نہیں جائے گا۔ تو میں ضرور یہ امید رکھوں گا کہ وہ شخص میں ہی ہوں۔ (2)
سورۃٔ حجر کی آیت نمبر 49 اور 50 سے حاصل ہو نے والی معلومات:
علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ان آیات کے تحت چند نِکات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
(1)… اللّٰہ تعالیٰ نے بندوں کی نسبت اپنی ذات کی طرف کرتے ہوئے فرمایا کہ’’میرے بندوں کو خبر دو‘‘ اس میں بندوں کی عزت افزائی ہے اور جس نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کا بندہ ہے تو وہ اس عزت و تعظیم میں داخل ہے۔
(2)…جب اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی رحمت و مغفرت کا ذکر کیا تو اسے بڑی تاکید کے ساتھ بیان کیا اور جب عذاب کا ذکر کیا تو اسے خبر دینے کے انداز میں بیان کیا (نیز اپنی رحمت و مغفرت کا ذکر پہلے اور عذاب کاذکر بعد میں فرمایا)یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اس کے غضب و عذاب پر سبقت رکھتی ہے۔
(3)…اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ وہ اس کے بندوں تک میری رحمت و مغفرت اور عذاب کی بات پہنچا دیں تو گویا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے رحمت و مغفرت کا اِلتزام فرمانے میں اپنی ذات پر اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو گواہ بنایا۔ (3)
یہی نِکات امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بھی تفسیر کبیر میں بیان فرمائے ہیں ،اسی مقام پر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید فرماتے ہیں کہ’’نَبِّئۡ عِبَادِیۡۤ‘‘کا معنی ہے کہ ہر اس شخص کو خبر دے دیں جو میرا بندہ ہونے کا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مسلم، کتاب التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللّٰہ تعالی وانّہا سبقت غضبہ، ص۱۴۷۲، الحدیث: ۲۳(۲۷۵۵)۔
2…حلیۃ الاولیاء، ذکر الصحابۃ من المہاجرین، عمر بن الخطاب، ۱/۸۹، روایت نمبر: ۱۴۲۔
3…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۰، ۳/۱۰۴۔