ترجمۂکنزالایمان: خبردو میرے بندوں کو کہ بیشک میں ہی ہوں بخشنے والا مہربان۔اور میرا ہی عذاب دردناک عذاب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: میرے بندوں کو خبردو کہ بیشک میں ہی بخشنیوالا مہربان ہوں۔ اور بیشک میرا ہی عذاب دردناک عذاب ہے۔
{نَبِّئۡ عِبَادِیۡۤ:میرے بندوں کو خبردو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو گناہ کرنے سے ڈرایا گیا اور جو گناہ ہو چکے ان سے توبہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ان دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ میرے بندوں کو بتا دیں کہ جب وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر لیں تو میں ہی ان کے گناہوں پر پردہ ڈال کر ان گناہوں کے سبب ہونے والی رسوائی اور عذاب سے انہیں بچاتا ہوں اور گناہوں سے توبہ کرنے کے بعد انہیں عذاب نہ دے کر ان پر رحم فرماتا ہوں اور میرے بندوں کو یہ بھی بتا دیں کہ میرا عذاب ان کے لئے ہے جواپنے گناہوں پر قائم رہیں اور ان سے توبہ نہ کریں۔ میرا عذاب اتنا دردناک ہے کہ اس جیسا دردناک کوئی عذاب ہو ہی نہیں سکتا۔ (1)
امید اور خوف کے درمیان رہنا چاہئے:
اس آیت اور اس کے بعد والی آیت سے یہ معلوم ہو اکہ بندوں کو امید اور خوف کے درمیان رہنا چاہئے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت دیکھ کر گناہوں پر بے باک ہوں نہ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کی شدت دیکھ کر اس کی رحمت سے مایوس ہوں۔ اسی سے متعلق صحیح بخاری میںحضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس روز اللّٰہ تعالیٰ نے رحمت کو پیدا فرمایا تو اس کے سو حصے کئے اور 99 حصے اپنے پاس رکھ کر ایک حصہ مخلوق کے لئے بھیج دیا۔ اگر کافر بھی یہ جان لے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے پاس کتنی رحمت ہے تو وہ بھی جنت سے مایوس نہ ہو اور اگر مومن یہ جان جائے کہ ا س کے پا س کتنا عذاب ہے تو جہنم سے وہ بھی بے خوف نہ ہو۔ (2)اور صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ اگر مومن جان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر طبری، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۹-۵۰، ۷/۵۲۱-۵۲۲۔
2…بخاری، کتاب الرقاق، باب الرجاء مع الخوف، ۴/۲۳۹، الحدیث: ۶۴۶۹۔