علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس آیت کا یہ معنی بیان فرمایا کہ ‘‘چنے ہوئے بندوں کا ابلیس کے بہکاوے سے بچ جانا وہ راستہ ہے جو سیدھا اللّٰہ تعالیٰ تک پہنچا دیتا ہے۔ (1)
{اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمْ سُلْطٰنٌ:بیشک میرے بندوں پر تیرا کچھ قابو نہیں۔} ابلیس نے جو یہ کہا کہ ’’ میں ضرور زمین میں ان (یعنی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد) کیلئے (دنیا کی محبت اور تیری نافرمانی کو) خوشنما بنادوں گا اور میں ضرور ان سب کو گمراہ کردوں گا سوائے اُن کے جو اِن میں سے تیرے چنے ہوئے بندے ہیں‘‘ اس کا مطلب بھی یہ نہیں کہ ابلیس انہیں جبری طور پر یا زبردستی اپنا پیروکار بنالے گا بلکہ مراد یہ ہے کہ لوگ خود اپنے اختیار سے اس کی پیروی کریں گے۔ اسی وجہ سے دوسری آیت میں وضاحت ہے کہ قیامت کے دن ابلیس کہے گا ۔
’’وَمَا کَانَ لِیَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیۡ‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور مجھے تم پر کوئی زبردستی نہیں تھی مگر یہی کہ میں نے تمہیںبلایا توتم نے میری مان لی ۔
{وَ اِنَّ جَہَنَّمَ:اور بیشک جہنم۔} یعنی بے شک جہنم ابلیس ، اس کی پیروی کرنے والوں اور اس کے گروہوں، سب کے عذاب کے وعدے کی جگہ ہے۔ (3)
نوٹ:یاد رہے کہ کفار ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جو گناہ گار مومن جہنم میں گئے تووہ عارضی طور پر وہاں رہیں گے۔
لَہَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ ؕ لِکُلِّ بَابٍ مِّنْہُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوۡمٌ ﴿٪۴۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ بٹا ہوا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک ایک حصہ تقسیم کیا ہوا ہے۔
{لَہَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ:اس کے سات دروازے ہیں۔} جہنم کے سات طبقے ہیں، ان طبقات کو دَرَکات بھی کہتے ہیں اور ہر طبقے کا ایک دروازہ ہے۔ پہلا طبقہ جہنم، دوسرا طبقہ لَظٰی، تیسرا طبقہ حُطَمَہ، چوتھا طبقہ سعیر ، پانچواں طبقہ سَقَر، چھٹا طبقہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۱، ۴/۴۶۹۔
2…ابراہیم:۲۲۔
3…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۳، ۳/۱۰۳۔