{قَالَ:ابلیس نے کہا۔} جب ابلیس کو معلوم ہوا کہ وہ کفر کی حالت میں مرے گا اور ا س کی کبھی بخشش نہ ہو گی تو اس نے مخلوق کو کفر میں مبتلا کر کے گمراہ کر دینے کی حرص کی اور کہا ’’اے میرے رب! مجھے اس بات کی قسم کہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں ضرور زمین میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد کیلئے دنیا کی محبت اور تیری نافرمانی کوخوشنما بنادوں گا اور میں ضرور ان سب کے دِلوں میں وسوسہ ڈال کرگمراہ کردوں گا ،البتہ تیرے برگزیدہ بندوں پر میرا وسوسہ اور مکرنہ چلے گا۔ (1)
قَالَ ہٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیۡمٌ ﴿۴۱﴾ اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغَاوِیۡنَ ﴿۴۲﴾ وَ اِنَّ جَہَنَّمَ لَمَوْعِدُہُمْ اَجْمَعِیۡنَ ﴿۴۳﴾۟
ترجمۂکنزالایمان: فرمایا یہ راستہ سیدھا میری طرف آتا ہے۔ بیشک میرے بندوں پر تیرا کچھ قابو نہیں سوا ان گمراہوں کے جو تیرا ساتھ دیں۔ اور بیشک جہنم ان سب کا وعدہ ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ نے فرمایا: یہ میری طرف آنے والا سیدھا راستہ ہے۔ بیشک میرے بندوں پر تیرا کچھ قابو نہیں سوائے ان گمراہوں کے جو تیرے پیچھے چلیں۔ اور بیشک جہنم ان سب کا وعدہ ہے۔
{قَالَ:اللّٰہ نے فرمایا۔}مفسرین نے اس آیت کے مختلف معنی بیان فرمائے ہیں۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ’’ یہ راستہ اپنے اوپر چلنے والے کو سیدھا چلاتا ہے یہاں تک کہ ا س پر چل کروہ جنت میں پہنچ جاتا ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت کا معنی یہ ہے کہ دلائل کے ساتھ لوگوں کی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرنا ہمارے ذمے ہے۔ (2)
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اخلاص مجھ تک پہنچنے کا سیدھا راستہ ہے۔ (3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۳۹-۴۰، ۳/۱۰۲، صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۳۹-۴۰، ۳/۱۰۴۳، ملتقطاً۔
2…قرطبی، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۱، ۵/۲۱، الجزء العاشر۔
3…تفسیرکبیر، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۱، ۷/۱۴۵۔