جحیم، ساتواں طبقہ ہاوِیہ ہے۔ (1)
{لِکُلِّ بَابٍ: ہر دروازے کیلئے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ابلیس کی پیروی کرنے والوں کو سات حصوں میں تقسیم فرما دیا ہے، ان میں سے ہر ایک کے لئے جہنم کا ایک طبقہ مُعَیّن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کفر کے مَراتب چونکہ مختلف ہیں اس لئے جہنم میں بھی ان کے مرتبے مختلف ہوں گے۔ (2)
اِنَّ الْمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ﴿ؕ۴۵﴾ اُدْخُلُوۡہَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیۡنَ ﴿۴۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک ڈر والے باغوں اور چشموں میں ہیں۔ان میں داخل ہو سلامتی کے ساتھ امان میں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ (حکم ہوگا) ان میں سلامتی کے ساتھ امن و امان سے داخل ہو جاؤ۔
{اِنَّ الْمُتَّقِیۡنَ:بیشک متقی لوگ۔}اس سے وہ لوگ مراد ہیں جوکفر و شرک سے باز رہے اور ایمان لائے اگرچہ گناہگار ہوں، گناہگار مومنین کا معاملہ اللّٰہ تعالیٰ کی مَشِیّت پر مَوقوف ہے وہ چاہے تو انہیں ایک مدت تک عذاب میں مبتلا کر دے، پھر اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شفاعت کے صدقے انہیں معاف فرما دے اور اگر چاہے تو انہیں عذاب ہی نہ دے۔ (3)
{اُدْخُلُوۡہَا:ان میں داخل ہو جاؤ۔} ایک قول یہ ہے کہ جب اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرنے والے جنت کے دروازوں پر پہنچیں گے تو ان سے کہا جائے گا اور دوسرا قول یہ ہے کہ جب جنتی جنت میں ایک جگہ سے دوسری جنت کی طرف متوجہ ہوں گے تو فرشتوں کی زبانی ان سے کہاجائے گا ’’ تم سلامتی اور امن و امان کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ، نہ یہاں سے نکالے جائو گے نہ تمہیں یہاں موت آئے گی نہ تم پر کوئی آفت رونما ہو گی ، نہ یہاں کوئی خوف اور پریشانی ہوگی۔ (4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳/۱۰۳۔
2…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳/۱۰۳۔
3…صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۵، ۳/۱۰۴۳۔
4…روح البیان، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۶، ۴/۴۷۱، مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۶، ص۵۸۲، خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳/۱۰۳، ملتقطاً۔