Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
229 - 601
نے کہا: اے میرے رب! تو مجھے اس دن تک مہلت دیدے جب لوگ اٹھائے جائیں۔ اللّٰہ نے فرمایا: پس بیشک تو ان میں سے ہے جن کو معین وقت کے دن تک مہلت دی گئی ہے۔
{وَ اِنَّ عَلَیۡکَ اللَّعْنَۃَ:اور بیشک تجھ پر لعنت ہے ۔} یعنی قیامت تک آسمان و زمین و الے تجھ پر لعنت کریں گے اور جب قیامت کا دن آئے گا تواس لعنت کے ساتھ ہمیشگی کے عذاب میں گرفتار کیا جائے گا جس سے کبھی رہائی نہ ہوگی۔(1) 
{قَالَ:اس نے کہا۔}  اپنے مردود اور لعنتی ہونے کے بارے میں سن کر شیطان نے کہا کہ اے میرے رب! مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے۔ قیامت کے دن تک مہلت مانگنے سے شیطان کا مطلب یہ تھا کہ وہ کبھی نہ مرے کیونکہ قیامت کے بعد کوئی نہ مرے گا اور قیامت تک کی اُس نے مہلت مانگ ہی لی لیکن اس کی اس دعا کو اللّٰہ تعالیٰ نے اس طرح قبول کیا کہ اس سے فرمایا: بیشک تو ان میں سے ہے جن کو اس معین وقت کے دن تک مہلت دی گئی ہے  جس میں تمام مخلوق مرجائے گی اور وہ وقت پہلے نَفْخہ کا ہے تو شیطان کے مردہ رہنے کی مدت پہلے نَفْخہ سے دوسرے نَفْخہ تک چالیس برس ہے اور اس کوا س قدر مہلت دینا اس کے اکرام کے لئے نہیں بلکہ اس کی بلا، شَقاوت اور عذاب کی زیادتی کے لئے ہے۔(2) 
قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیۡتَنِیۡ لَاُزَیِّنَنَّ لَہُمْ فِی الۡاَرْضِ وَلَاُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾ اِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیۡنَ ﴿۴۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: بولا اے رب میرے قسم اس کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں انہیں زمین میں بھلاوے دوں گا اور ضرور میں ان سب کو بے راہ کردوں گا۔ مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس نے کہا: اے رب میرے! مجھے اس بات کی قسم کہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں ضرورزمین میں لوگوں کیلئے (نافرمانی) خوشنما بنادوں گا اور میں ضرور ان سب کو گمراہ کردوں گا ۔سوائے اُن کے جو اِن میں سے تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳/۱۰۲۔
2…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۳۶-۳۷، ۳/۱۰۲، ملخصاً۔