Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
228 - 601
حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے خود کو افضل بتا کر تکبر کیا۔ ان تین گناہوں کا انجام یہ ہوا کہ ابلیس کی ہزاروں برس کی عبادت و ریاضت برباد ہو گئی، فرشتوں کا استاد ہونے کی عظمت چھن گئی، اسے بارگاہِ الٰہی سے مردود و رسوا کر کے نکال دیا گیا، قیامت تک کے لئے اس کے گلے میں لعنت کا طوق ڈال دیا گیا اور اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جلنے کی سزا دے دی گئی۔ شیطان کے گناہوں اور اس کے عبرت ناک انجام کو سامنے رکھتے ہوئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ عمومی طور پر تما م گناہوں اور خاص طور پر ان تین گناہوں سے بچے اور اپنے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتا رہے۔ اسی سلسلے میں اللّٰہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَامکا حال سنئے ،چنانچہ نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مروی ہے کہ آپ نے حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَامکو دیکھا کہ ( ابلیس کے انجام سے عبرت گیر ہو کر) کعبۂ مشرفہ کے پردہ سے لپٹ کر نہایت گریہ وزاری کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا کر رہے ہیں ، ’’اِلٰھِیْ لَا تُغَیِّرْ اِسْمِیْ وَلَا تُبَدِّلْ جِسْمِیْ۔ یعنی اے میرے اللّٰہ ! کہیں میرا نام نیکوں کی فہرست سے نہ نکال دینا اور کہیں میرا جسم اہلِ عطا کے زُمرہ سے نکال کر اہلِ عتاب کے گروہ میں شامل نہ فرما دینا۔ (1) جب گناہوں سے معصوم اور بارگاہِ الٰہی کے مقرب ترین فرشتے کے خوف کا یہ حال ہے تو گناہوں میں لتھڑے ہوئے مسلمان کو تو کہیں زیادہ ڈرنا اور اپنے انجام کے بارے میں فکر مند ہونا چاہئے۔
قَالَ فَاخْرُجْ مِنْہَا فَاِنَّکَ رَجِیۡمٌ ﴿ۙ۳۴﴾ وَّ اِنَّ عَلَیۡکَ اللَّعْنَۃَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیۡنِ ﴿۳۵﴾ قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرْنِیۡۤ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوۡنَ ﴿۳۶﴾ قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنۡظَرِیۡنَ ﴿ۙ۳۷﴾ اِلٰی یَوۡمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوۡمِ ﴿۳۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: فرمایا تو جنت سے نکل جا کہ تو مردود ہے۔  اور بیشک قیامت تک تجھ پر لعنت ہے ۔  بولا اے میرے رب تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں ۔ فرمایا تو ان میں ہے جن کو اس معلوم وقت کے دن تک مہلت ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ نے فرمایا: تو جنت سے نکل جا کیونکہ تو مردود ہے۔ اور بیشک قیامت تک تجھ پر لعنت ہے ۔ اس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…منہاج العابدین، العقبۃ الخامسۃ، اصول سلوک طریق الخوف والرجاء، الاصل الثانی، ص۱۶۰۔