Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
227 - 601
اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا نور تھا۔ (1)
{اِلَّاۤاِبْلِیۡسَ:سوا ئے ابلیس کے۔} یعنی جب اللّٰہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو فرشتے سجدے میں گر گئے لیکن ابلیس نے ان سجدہ کرنے والے فرشتوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا اور حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو سجدہ نہ کیا۔ (2) 
قَالَ یٰۤـاِبْلِیۡسُ مَا لَکَ اَلَّا تَکُوۡنَ مَعَ السّٰجِدِیۡنَ ﴿۳۲﴾ قَالَ لَمْ اَکُنۡ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہٗ مِنۡ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوۡنٍ ﴿۳۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: فرمایا اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ سجدہ کرنے والوں سے الگ رہا۔ بولا مجھے زیبا نہیں کہ بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے بجتی مٹی سے بنایا جو سیاہ بودار گارے سے تھی۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ نے فرمایا: اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ توسجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا۔ اس نے کہا: میرے لائق نہیں کہ میں کسی انسان کو سجدہ کروں جسے تو نے بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو سیاہ بدبودار گارے سے تھی۔
{قَالَ:ابلیس نے کہا۔} اس کلام سے ابلیس کی مراد یہ تھی کہ وہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے افضل ہے، کیونکہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اصل مٹی ہے اور ابلیس کی اصل آگ ہے اور( اس کے خیال میں) آگ چونکہ مٹی سے افضل ہے اس لئے ابلیس نے اپنے گمان میں خود کو حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے افضل سمجھا لیکن وہ خبیث یہ بات بھول گیا تھا کہ افضل تو وہی ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ فضیلت عطا کرے۔ (3)
شیطان کے تین گناہ اور ان کا انجام:
	حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سجدہ نہ کرنے اور اس کی وجہ بیان کرنے میں شیطان نے تین گناہوں کا اِرتکاب کیا۔ (1) اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی۔ (2) بارگاہِ الٰہی کی مقرب ہستیوں کی جماعت سے جدا راستہ اختیار کیا۔ (3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الحجر، تحت الآیۃ: ۳۰، ۴/۴۶۲۔
2…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۳۱، ۳/۱۰۱-۱۰۲، ملخصاً۔
3…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۳۳، ۳/۱۰۲۔