Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
226 - 601
اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کافتاویٰ رضویہ کی22 ویں جلد میں موجود تحقیقی رسالہ ’’اَلزُّبْدَۃُ الزَّکِیَّہْ فِیْ تَحْرِیْمِ سُجُوْدِ التَّحِیَّہْ‘‘ (غیرُ اللّٰہ کیلئے سجدۂ تعظیمی کے حرام ہونے کا بیان) کا مطالعہ فرمائیں ،اس رسالے میں اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے قرآنِ کریم کی آیات، 40 اَحادیث، بیسیوں فقہی نصوص اور علماء واولیاء کے اجماع سے سجدۂ تعظیمی حرام ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے۔
فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمْ اَجْمَعُوۡنَ ﴿ۙ۳۰﴾ اِلَّاۤاِبْلِیۡسَ ؕ اَبٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ مَعَ السّٰجِدِیۡنَ ﴿۳۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو جتنے فرشتے تھے سب کے سب سجدے میں گرے۔ سوا ابلیس کے اس نے سجدہ والوں کا ساتھ نہ مانا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو جتنے فرشتے تھے سب کے سب سجدے میں گرگئے۔سوا ئے ابلیس کے ،اس نے سجدہ والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کردیا۔
{فَسَجَدَ:تو سجدے میں گرگئے۔} یعنی جب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تخلیق مکمل ہوئی اور اللّٰہ تعالیٰ نے ان میں روح ڈال دی تو جتنے فرشتے تھے سب کے سب ایک ساتھ سجدے میں گرگئے۔ (1)
فرشتوں نے کسے سجدہ کیا؟
	فرشتوں کے اس سجدے سے متعلق بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ سجدہ اللّٰہ تعالیٰ کے لئے تھا اور حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے اعزاز کے لئے منہ ان کی طرف تھا جیسے کعبہ کو منہ کرنے میں ہے (کہ سجدہ اللّٰہ تعالیٰ کے لئے کیا جاتا ہے اور منہ کعبہ شریف کی طرف ہوتا ہے) اور بعض علماء نے فرمایا کہ یہ سجدہ تعظیم و تکریم کے طور پر حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ہی تھا۔(2) 
	علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس سے متعلق بڑی پیاری بات ارشاد فرمائی ہے کہ ’’یہ سجدہ درحقیقت اس نور کی تعظیم کے لئے تھا جو حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مبارک پیشانی میں چمک رہا تھا اور وہ سیّدُ المرسَلین صَلَّی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابوسعود، الحجر، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳/۲۲۴۔
2…رد المحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، ۹/۶۳۲۔