پیدا ہوتی۔ جب سورج کی تپش سے وہ پختہ ہوگئی تو اس میں روح پھونکی اور وہ انسان بن گیا۔ (1)
وَالْجَاۤنَّ خَلَقْنٰہُ مِنۡ قَبْلُ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴿۲۷﴾ ترجمۂکنزالایمان: اور جِن کو اس سے پہلے بنایا بے دھوئیں کی آگ سے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے اس سے پہلے جن کو بغیر دھویں والی آگ سے پیدا کیا۔
{وَالْجَاۤنَّ :اور جن کو۔} حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں اس آیت میں ’’اَلْجَاۤنَّ ‘‘ سے ابلیس مراد ہے ۔ یہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے پیدا گیا ،جب ا بلیس کے بعد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی پیدائش ہوئی تو ابلیس نے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ملنے والے مقام و مرتبہ کی بنا پر ان سے حسد کیا اور کہا میں آگ سے بنا ہوں اور یہ مٹی سے ۔ (2)
نوٹ:یاد رہے کہ ’’اَلْجَاۤنَّ‘‘ سے متعلق مفسرین کے اور بھی اَقوال ہیں۔
{مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ:بغیر دھویں والی آگ سے ۔} یعنی ابلیس کو حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے پہلے اس آگ سے پیدا کیا جس میں دھواں نہیں ہوتا ۔
وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوۡنٍ ﴿۲۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں آدمی کو بنانے والا ہوں بجتی مٹی سے جو بدبودار سیاہ گارے سے ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک آدمی کوبجتی ہوئی مٹی سے پیدا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳/۱۰۰-۱۰۱، ملخصاً۔
2…تفسیر طبری، الحجر، تحت الآیۃ: ۲۶، ۷/۵۱۳۔