Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
223 - 601
پیدا ہوتی۔ جب سورج کی تپش سے وہ پختہ ہوگئی تو اس میں روح پھونکی اور وہ انسان بن گیا۔ (1)
وَالْجَاۤنَّ خَلَقْنٰہُ مِنۡ قَبْلُ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴿۲۷﴾ ترجمۂکنزالایمان: اور جِن کو اس سے پہلے بنایا بے دھوئیں کی آگ سے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے اس سے پہلے جن کو بغیر دھویں والی آگ سے پیدا کیا۔
{وَالْجَاۤنَّ :اور جن کو۔} حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں اس آیت میں ’’اَلْجَاۤنَّ ‘‘ سے ابلیس مراد ہے ۔ یہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے پیدا گیا ،جب ا بلیس کے بعد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی پیدائش ہوئی تو ابلیس نے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ملنے والے مقام و مرتبہ کی بنا پر ان سے حسد کیا اور کہا میں آگ سے بنا ہوں اور یہ مٹی سے ۔ (2)
	نوٹ:یاد رہے کہ ’’اَلْجَاۤنَّ‘‘ سے متعلق مفسرین کے اور بھی اَقوال ہیں۔
{مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ:بغیر دھویں والی آگ سے ۔} یعنی ابلیس کو حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے پہلے اس آگ سے پیدا کیا جس میں دھواں نہیں ہوتا ۔  
وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوۡنٍ ﴿۲۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں آدمی کو بنانے والا ہوں بجتی مٹی سے جو بدبودار سیاہ گارے سے ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک آدمی کوبجتی ہوئی مٹی سے پیدا 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳/۱۰۰-۱۰۱، ملخصاً۔
2…تفسیر طبری، الحجر، تحت الآیۃ: ۲۶، ۷/۵۱۳۔