کرنے والا ہوں جو مٹی بدبودار سیاہ گارے کی ہے۔
{وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا ۔}اس سے پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیدائش کا ذکر فرمایا اور ان آیات سے اللّٰہ تعالیٰ ان کی پیدائش کاو اقعہ بیان فرما رہا ہے ۔ (1)
نوٹ:یاد رہے کہ ان آیات میں مذکور واقعہ سورۂ بقرہ اور سورہ اَعراف میں گزر چکا ہے،اس کے علاوہ اور سورتوں میں بھی اس واقعے کا بیان موجود ہے ۔
فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ ﴿۲۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو جب میں اسے ٹھیک کرلوں اور اس میں اپنی طرف کی خاص معز ز ر وح پھونک لوں تو اس کے لیے سجدے میں گر پڑنا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو جب میں اسے ٹھیک کرلوں اور میں اپنی طرف کی خاص معز ز ر وح اس میںپھونک دوں تو اس کے لیے سجدے میں گر جانا۔
{وَنَفَخْتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ:اور میں اپنی طرف کی خاص معز ز ر وح اس میں پھونک دوں۔}اس آیت میںاللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی روح کو اپنی طرف ان کی عزت و تکریم کے طور پر منسوب فرمایا، جیسے کہا جاتا ہے: بیتُ اللّٰہ،ناقۃُ اللّٰہ ،عبداللّٰہ ۔ (2)
نوٹ:روح سے متعلق کلام سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر85میں مذکور ہے۔
{فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ:تو اس کے لیے سجدے میں گر جانا۔} اس آیت میںاللّٰہتعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سجدہ کریں۔ یہ سجدہ تعظیمی تھا عبادت کا سجدہ نہیں تھا۔ (3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، الحجر، تحت الآیۃ: ۲۸،۷/۱۳۹۔
2…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۲۹، ۳/۱۰۱۔
3…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۲۹، ۳/۱۰۱۔