Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
222 - 601
وَ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ یَحْشُرُہُمْ ؕ اِنَّہٗ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ ﴿٪۲۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک تمہارا رب ہی انہیں قیامت میں اٹھائے گا بیشک وہی علم و حکمت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک تمہارا رب ہی انہیںاٹھائے گا بیشک وہی علم والا، حکمت والا ہے۔
{وَ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ یَحْشُرُہُمْ:اور بیشک تمہارا رب ہی تمہیں اٹھائے گا۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ سب لوگوں پرموت طاری فرمائے گا پھر اوّلین و آخرین سب لوگوں کو قیامت میں اسی حال پر اٹھائے گا جس پر وہ مرے ہوں گے۔ (1) حدیث پاک میں بھی یہ چیز بیان کی گئی ہے چنانچہ حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ہر بندہ اسی حال پر اٹھایا جائے گا جس پر اسے موت آئی ہو گی۔ (2)
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوۡنٍ ﴿ۚ۲۶﴾ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے آدمی کو بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو اصل میں ایک سیاہ بودار گارا تھی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے انسان کوخشک بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو ایسے سیاہ گارے کی تھی جس سے بُو آتی تھی۔
{وَلَقَدْ خَلَقْنَا الۡاِنۡسَانَ:اور بیشک ہم نے انسان بنایا۔} اس آیت میں انسان سے مراد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی پیدائش کی کیفیت کاذکر قرآنِ پاک کی متعدد آیات میں مختلف سے انداز کیا گیا ہے، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ  جب  اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو زمین سے ایک مشت خاک لی، پھر اس مٹی کو پانی سے تر کیا، یہاں تک کہ وہ سیاہ گارا ہوگئی اور اُس میں بو پیدا ہوئی، پھر اس سیاہ رنگ اور بو والی مٹی سے انسان کی صورت بنائی، جب وہ سوکھ کر خشک ہوگئی تو جس وقت ہوا اس میں سے گزرتی تو وہ بجتی اور اس میں آواز 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳/۱۰۰۔
2…مسلم، کتاب الجنّۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الامر بحسن الظنّ باللّٰہ تعالی عند الموت: ص۱۵۳۸، الحدیث: ۸۳ (۲۸۷۸)۔