آسمان میں داخل ہونے سے شیطانوں کو روک دیا گیا:
حضرت عبداللّٰہبن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ’’ شَیاطین آسمانوں میں داخل ہوتے تھے اور وہاں کی خبریں کاہنوں کے پاس لاتے تھے ، جب حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پیدا ہوئے تو شیاطین تین آسمانوں سے روک دیئے گئے اور جب سیدُ المرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ولادت ہوئی تو تمام آسمانوں سے منع کردیئے گئے۔ اس کے بعد ان میں سے جب کوئی باتیں چوری کرنے کے ارادے سے اوپر چڑھتا تو اسے شِہاب کے ذریعے مارا جاتا۔ شیطانوں نے یہ صورت ِحال ابلیس کے سامنے بیان کی تو ا س نے کہا: ضرور کوئی نئی بات ہوئی ہے۔ پھر ابلیس نے شیطانوں کو معلومات کرنے کے لئے بھیجا تو ایک جگہ انہوں نے دیکھا کہ رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قرآنِ پاک کی تلاوت فرما رہے ہیں ۔ یہ دیکھ کر وہ بول اٹھے ’’خدا کی قسم یہی وہ نئی بات ہے۔‘‘ (1)
{فَاَتْبَعَہٗ شِہَابٌ مُّبِیۡنٌ:تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ پڑجاتا ہے۔} شہاب اس ستارے کو کہتے ہیں جو شعلے کی طرح روشن ہوتا ہے اور فرشتے اس سے شیاطین کو مارتے ہیں۔ (2)
شیطانوں کوشہابِ ثاقب لگنے سے متعلق دو اَحادیث:
(1)… حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب اللّٰہ تعالیٰ آسمانی فرشتوں کو کوئی حکم دیتا ہے تو وہ عاجزی کی وجہ سے اپنے پَرمارنے لگتے ہیں جیسے زنجیر کو صاف پتھر پر مارا جائے۔ پھر اللّٰہ تعالیٰ اس حکم کو نافذ فرما دیتا ہے ۔ جب ان کے دلوں سے کچھ خوف دور ہوتا ہے تو ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ تمہارے رب عَزَّوَجَلَّنے کیا فرمایا ؟وہ جواب دیتے ہیں کہ تمہارے رب عَزَّوَجَلَّنے جو فرمایا وہ حق فرمایا اور وہی بلند و بر تر ہے ۔پھر بات چرانے والے شیطان چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے ہیں اور چوری چھپے سننے کے لئے شیطان یوں اوپر نیچے رہتے ہیں، چنانچہ سفیان نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو کھول کر اوپر نیچے کر کے دکھایا۔ بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ سننے والے شیطان کو چنگاری جا لگتی ہے اور وہ جل جاتا ہے ا س سے پہلے کہ وہ یہ بات اپنے ساتھ والے کو بتائے اور بعض اوقات چنگاری لگنے سے پہلے وہ اپنے نزدیک والے شیطان کو جو اس کے نیچے ہوتا ہے، بتا چکا ہوتا ہے اورا س طرح
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۱۷، ۳/۹۷۔
2…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳/۹۷، ملخصاً۔