وہ بات زمین تک پہنچا دی جاتی ہے ،پھر وہ جادو گر کے منہ میں ڈالی جاتی ہے ،پھر وہ جادو گر ایک کے ساتھ سو جھوٹ اپنی طرف سے ملاتا ہے، اس پر لوگ اس کی تصدیق کر کے کہنے لگتے ہیں کہ کیا اس نے فلاں روز ہمیں نہیں بتایا تھا کہ فلاں بات یوں ہو گی چنانچہ ہم نے اس کی بات کو درست پایا حالانکہ یہ وہی بات تھی جو آسمان سے چوری چھپے سنی گئی تھی۔ (1)
(2)… حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں مجھے ایک انصاری صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بتایا کہ ہم ایک رات رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ساتھ بیٹھے تھے، ایک تارا ٹوٹا، اور روشنی پھیل گئی تو ہم سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ جاہلیت کے زمانے میں جب اس جیسا تارا ٹوٹتا تھا تو تم کیا کہتے تھے ؟ہم نے عرض کی ’’ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خوب جانتے ہیں ۔ ہم تو یہ کہتے تھے کہ آج رات یا تو کوئی بڑا آدمی پیدا ہوا یا کوئی بڑا آدمی مرا ہے۔ نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’یہ تارے نہ تو کسی کی موت کے لیے مارے جاتے ہیں نہ کسی کی زندگی کیلئے لیکن ہمارا رب عَزَّوَجَلَّ کہ اس کا نام مبارک اور بلندہے ، جب کسی چیز کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش اٹھانے والے تسبیح کرتے ہیں، پھر آسمان والوں میں سے جو ان کے قریب ہیں وہ تسبیح کرتے ہیں حتّٰی کہ تسبیح کا یہ سلسلہ اس دنیا کے آسمان والے فرشتوں تک پہنچ جاتا ہے ، پھر عرش اٹھانے والے فرشتوں کے قریب والے ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے کیا فرمایا؟ وہ انہیں خبر دیتے ہیں ۔ پھر بعض آسمان والے بعض سے خبریں پوچھتے ہیں حتّٰی کہ اس آسمانِ دنیا تک خبر پہنچ جاتی ہے تو جِنّات ان سنی ہوئی باتوں کو اچک لیتے ہیں اور اپنے دوستوں تک پہنچا دیتے ہیں، (ان میں سے بعض) مار دیئے جاتے ہیں ۔پھر کاہن جو کچھ اس کے مطابق کہتے ہیں وہ تو کچھ درست ہوتا ہے لیکن وہ تو اس میں جھوٹ ملادیتے ہیں اور بڑھا دیتے ہیں ۔ (2)
وَالۡاَرْضَ مَدَدْنٰہَا وَ اَلْقَیۡنَا فِیۡہَا رَوٰسِیَ وَ اَنۡۢبَتْنَا فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ مَّوْزُوۡنٍ ﴿۱۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے زمین پھیلائی اور اس میں لنگر ڈالے اور اس میں ہر چیز اندازے سے اگائی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور ہم نے اس میں لنگر ڈال دئیے اور اس میں ہر چیز ایک معین اندازے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ الحجر، باب الاّ من استرق السمع فاتبعہ شہاب مبین، ۳/۲۵۴، الحدیث: ۴۷۰۱۔
2…مسلم، کتاب السلام، باب تحریم الکھانۃ واتیان الکھان، ص۱۲۲۴، الحدیث: ۱۲۴(۲۲۲۹)۔