کی منزلیں ہیں اور ان برجوں کی تعداد بارہ ہے۔ (1) حَمْل۔ (2) ثَوْر۔ (3) جَوْزَائ۔ (4) سَرَطَانْ۔ (5) اَسَد۔ (6) سُنْبُلَہ۔ (7) میزان۔ (8) عَقْرَب۔ (9) قَوس۔ (10) جَدْی ۔ (11) دَلْو۔ (12) حُوْت۔ مِرِّیخْ کے برج حَمْل اور عَقْرَب ہیں، زُہْرَہ کے ثَوْر اور میزان، عُطَارِدْ کے جَوْزَاء اور سُنْبُلَہ، چاند کا سَرَطَانْ، سورج کا اسد، مشتری کے قوس اور حُوت اور زُحَل کے جَدْی اور دَلْو ہیں۔ (1)
{وَ زَیَّنّٰہَا لِلنّٰظِرِیۡنَ:اور اسے دیکھنے والو ں کے لیے آراستہ کیا۔} یعنی ہم نے آسمان کو سورج ، چاند اور ستاروں سے آراستہ کیا تاکہ غورو فکر کرنے والے اس سے اللّٰہ تعالیٰ کے واحد اور خالق ہونے پر اِستدلال کریں اور جان لیں کہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا اور اسے شکل و صورت عطا کرنے والا صرف اللّٰہ تعالیٰ ہے۔ (2)
وَ حَفِظْنٰہَا مِنۡ کُلِّ شَیۡطٰنٍ رَّجِیۡمٍ ﴿ۙ۱۷﴾ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَہٗ شِہَابٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اسے ہم نے ہر شیطان مردود سے محفوظ رکھا۔ مگر جو چوری چھپے سننے جائے تو اس کے پیچھے پڑتا ہے روشن شعلہ ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اسے ہم نے ہر شیطان مردود سے محفوظ رکھا ۔ البتہ جو چوری چھپے سننے جائے تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ پڑجاتا ہے۔
{وَ حَفِظْنٰہَا:اور اسے ہم نے محفوظ رکھا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آسمانِ دنیا کو ہر مردود اور لعین شیطان سے محفوظ رکھا ہے لیکن جو شیطان آسمانوں میں ہونے والی گفتگو چوری کر کے ایک دوسرے کو بتاتے ہیں تو ان کے پیچھے ایک روشن شعلہ پڑ جاتا ہے۔ (3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلالین، الحجر، تحت الآیۃ: ۱۶، ص۲۱۲۔
2…خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۱۶، ۳/۹۷۔
3…تفسیر طبری، الحجر، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸، ۷/۴۹۹۔