Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
208 - 601
کفارِ مکہ کے ایک اعتراض کی وجوہات:
	  مکہ کے مشرکین ، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مذاق اڑاتے ہوئے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف جنون کی نسبت کرتے تھے، اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ عموماً لوگ جب کسی سے عجیب و غریب کلام سنتے ہیں جو ان کی عقل میں نہ آئے تو وہ اس قائل کومجنون سمجھتے ہیں، یہی حال مکہ کے مشرکین کا تھا کیونکہ جب سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کے سامنے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی وحدانیت، اپنی رسالت ، قرآن کی حقانیت اور قیامت کے وقوع کی خبر دی تو یہ ان کیلئے نہایت تعجب انگیز تھی ۔ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں یہ تعجب کہ ایک انسان رسول کیسے ہوسکتا ہے اور قیامت کے بارے میں یہ کہ گلی سڑی ہڈیاں کیسے دوبارہ زندہ ہوسکتی ہیں اور اسی طرح توحید اور قرآن کے بارے میں ان کے شبہات تھے۔ نیز یہ کلام بطورِ تَمَسخُر بھی تھا اور انجان لوگوں کو حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دور کرنے کیلئے پروپیگنڈا بھی تھا۔
	یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے پیارے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف کفار کا جنون کی نسبت کرنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ پہلے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ بھی اس طرح ہوتا رہا ہے ، جیسا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں فرعون نے بھی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو مجنون کہا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے
’’قَالَ اِنَّ رَسُوۡلَکُمُ الَّذِیۡۤ اُرْسِلَ اِلَیۡکُمْ لَمَجْنُوۡنٌ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:(فرعون نے)کہا: بیشک تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے۔
	یونہی حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو مجنون کہا تھا، قرآنِ مجید میں ہے
’’کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوۡحٍ فَکَذَّبُوۡا عَبْدَنَا وَ قَالُوۡا مَجْنُوۡنٌ وَّ ازْدُجِرَ‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا کہا اور کہنے لگے: یہ پاگل ہے اور نوح کوجھڑکا گیا۔
	بلکہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پہلے جتنے رسول تشریف لائے سب کو ان کی قوموں نے جادو گر یا دیوانہ کہا تھا، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1…الشعراء:۲۷۔		2…القمر:۹۔