Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
209 - 601
’’کَذٰلِکَ مَاۤ اَتَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا قَالُوۡا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوۡنٌ‘‘ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: یونہی جب ان سے پہلے لوگوں کے پاس کوئی رسول تشریف لایا تو وہ یہی بولے کہ (یہ)جادوگر ہے یا دیوانہ۔
{لَوْ مَا تَاۡتِیۡنَا بِالْمَلٰٓئِکَۃِ:ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لاتے ؟}  کفارِ مکہ نے حضور انورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہا ’’   اگر آپ اپنی ا س بات میں سچے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر ہماری طرف مبعوث فرمایا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر کتاب نازل فرمائی ہے تو پھر آپ   ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لاتے تاکہ وہ آپ کے دعوے کی سچائی پر گواہی دیں کیونکہ جب اللّٰہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہے تو آپ کی نبوت کو ثابت کرنے کیلئے فرشتہ بھی بھیج سکتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے کفار کے اس شبہ کا جو جواب دیا وہ اگلی آیت میں مذکور ہے۔ 
مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِکَۃَ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَمَا کَانُوۡۤا اِذًا مُّنۡظَرِیۡنَ ﴿۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: ہم فرشتے بیکار نہیں اتارتے اور وہ اتریں تو انہیں مہلت نہ ملے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہم فرشتوں کو حق فیصلے کے ساتھ ہی اتارتے ہیں اور جب وہ اترتے ہیں تو لوگوں کومہلت نہیں دی جاتی ۔ 
{مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِکَۃَ اِلَّا بِالۡحَقِّ:ہم فرشتوں کو حق فیصلے کے ساتھ ہی اتارتے ہیں۔}ا س آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق کے معاملے میں قانون یہ ہے کہ وہ فرشتوں کو ان لوگوں پر ظاہر فرماتا ہے جن کی طرف اللّٰہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا ہو یا جن پر عذاب نازل کرنا مقصود ہو، اگر ان مشرکین کے مطالبے کے مطابق اللّٰہ تعالیٰ ان کی طرف حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ نشانی کے طور پر فرشتہ بھیج دیتا اور اس کے بعد بھی وہ اپنے کفر پر قائم رہتے تو پھر انہیں مہلت ملتی، نہ ان سے عذاب مؤخر کیا جاتا بلکہ سابقہ قوموں کی طرح یہ بھی اسی وقت  عذاب میں گرفتار کردیئے جاتے لیکن چونکہ یہ امت قیامت تک باقی رہے گی ،اسی میں بہت سے لوگ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرنے والے ہوں گے اس لئے کفارکایہ مطالبہ منظور نہ کیا گیا۔ (2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الذاریات:۵۲۔
2…صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۸، ۳/۱۰۳۶، تفسیر طبری، الحجر، تحت الآیۃ: ۸، ۷/۴۹۳، ملتقطاً۔