آگے بڑھے گااورنہ پیچھے ہٹے گا۔
{وَ مَاۤ اَہۡلَکْنَا مِنۡ قَرْیَۃٍ:اور ہم نے جو بستی ہلاک کی۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ سے پہلے جن بستیوں کے باشندوں کو ہم نے ہلاک کیا ان کے لئے ایک مُعَیّن وقت لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا تھا، ہم نے انہیں وہ وقت آنے سے پہلے ہلاک نہیں کیا اور جب وہ وقت آ گیا تو ہم نے انہیں تباہ و برباد کر دیا۔ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اسی طرح مکہ کے مشرکوں کو بھی ہم اسی وقت ہلاک کریں گے جب ان کا لکھا ہوا معین وقت آ جائے گا کیونکہ میرا فیصلہ یہ ہے کہ میں معین وقت آنے سے پہلے کسی بستی کے باشندوں کو ہلاک نہیں فرماتا۔ (1)
{مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّۃٍ اَجَلَہَا:کو ئی گروہ اپنی مدت سے نہ آگے بڑھے گا۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے جس گروہ کی ہلاکت کا جو وقت معین کر دیا ہے وہ اسی وقت میں ہلاک ہو گا،اس معین وقت سے کوئی گروہ نہ آ گے بڑھ سکے گا نہ پیچھے ہٹ سکے گا۔ (2)
وَ قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡ نُزِّلَ عَلَیۡہِ الذِّکْرُ اِنَّکَ لَمَجْنُوۡنٌ ؕ﴿۶﴾ لَوْ مَا تَاۡتِیۡنَا بِالْمَلٰٓئِکَۃِ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بولے کہ اے وہ جن پر قرآن اترا بیشک تم مجنون ہو ۔ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لاتے اگر تم سچے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کافروں نے کہا: اے وہ شخص جس پر قرآن نازل کیا گیا ہے! بیشک تم مجنون ہو۔ اگر تم سچے ہو توہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لاتے ؟
{وَ قَالُوۡا:اور کافروں نے کہا۔} اس سے پہلی آیات میں کفار کو اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا گیا تھااور اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے سیّد المرسَلینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کے متعلق کفار کے شبہات ذکر کر کے ان کے جوابات دئیے ہیں۔ (3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرطبری، الحجر، تحت الآیۃ: ۴، ۷/۴۹۲، ملخصاً۔
2…تفسیرطبری، الحجر، تحت الآیۃ: ۵، ۷/۴۹۲۔
3…تفسیرکبیر، الحجر، تحت الآیۃ: ۶، ۷/۱۲۱، ملخصاً۔