ترجمۂکنزالایمان: اور اس دن تم مجرموں کو دیکھو گے کہ بیڑیوں میں ایک دوسرے سے جڑے ہوں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس دن تم مجرموں کو بیڑیوں میں ایک دوسرے سے بندھا ہوا دیکھو گے ۔
{وَتَـرَی الْمُجْرِمِیۡنَ یَوْمَئِذٍ:اور اس دن تم مجرموں کو دیکھو گے ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ قیامت کے دن کافروں کو بیڑیوں میں اپنے شیطانوں کے ساتھ بندھا ہو ادیکھیں گے۔ (1)
قیامت کے دن مومن و کافر کی پہچان:
اس سے معلوم ہوا کہ محشر میں کفار اور مومن ظاہری علامات سے ہی پہچان لئے جائیں گے کہ کافروں کے منہ کالے ، ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے اور پاؤں بیڑیوں میں بندھے ہوئے ہوں گے جبکہ مومنوں کا حال اس کے برعکس ہوگا۔
سَرَابِیۡلُہُمۡ مِّنۡ قَطِرَانٍ وَّتَغْشٰی وُجُوۡہَہُمُ النَّارُ ﴿ۙ۵۰﴾ لِیَجْزِیَ اللہُ کُلَّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ ؕ اِنَّ اللہَ سَرِیۡعُ الْحِسَابِ ﴿۵۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: ان کے کُرتے رال کے ہوں گے اور ان کے چہرے آ گ ڈھانپ لے گی۔اس لیے کہ اللّٰہ ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دے بیشک اللّٰہ کو حساب کرتے کچھ دیر نہیں لگتی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان کے کرتے تارکول کے ہوں گے اور ان کے چہروں کو آ گ ڈھانپ لے گی۔ تاکہ اللّٰہ ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دے، بیشک اللّٰہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے۔
{سَرَابِیۡلُہُمۡ:ان کے کرتے ۔} یعنی قیامت کے دن کافروں کے کرتے سیاہ رنگ اور بدبودار تارکول کے ہوں گے جن سے آگ کے شعلے اور زیادہ تیز ہوجائیں۔ (2)
تفسیر بیضاوی میں ہے کہ ان کے بدنوں پر رال لیپ دی جائے گی تووہ کرتے کی طرح ہوجائے گی، اس کی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلالین، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۹، ص۲۱۰۔
2…مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵۰، ص۵۷۵، خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۵۰، ۳/۹۳، ملتقطاً۔