گا اور اپنے رسول کی مدد فرمائے گا، اُن کے دین کو غالب کرے گا اوراُن کے دشمنوں کو ہلاک کرے گا۔ (1)
یَوْمَ تُبَدَّلُ الۡاَرْضُ غَیۡرَ الۡاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوۡا لِلہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ﴿۴۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: جس دن بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا اور آسمان اور لوگ سب نکل کھڑے ہوں گے ایک اللّٰہ کے سامنے جو سب پر غالب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یاد کروجس دن زمین کو دوسری زمین سے اور آسمانوں کو بدل دیا جائے گا اور تمام لوگ ایک اللّٰہ کے حضور نکل کھڑے ہوں گے جو سب پر غالب ہے۔
{یَوْمَ تُبَدَّلُ الۡاَرْضُ:جس دن زمین بدل دی جائے گی۔} اس دن سے قیامت کا دن مراد ہے اور زمین و آسمان کی تبدیلی کے بارے میں مفسرین کے دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ اُن کے اوصاف بدل دیئے جائیں گے مثلاً زمین ایک سطح ہو جائے گی ،نہ اُس پر پہاڑ باقی رہیں گے نہ بلند ٹیلے نہ گہرے غار، نہ درخت نہ عمارت نہ کسی بستی اور اقلیم کا نشان اور آسمان پر کوئی ستارہ نہ رہے گا اور سورج وچاند کی روشنیاں معدوم ہو جائیں گی ۔یہ تبدیلی اوصاف کی ہے ذات کی نہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ آسمان و زمین کی ذات ہی بدل دی جائے گی، اس زمین کی جگہ ایک دوسری چاندی کی زمین ہوگی ،سفید و صاف ہو گی جس پر نہ کبھی خون بہایا گیا ہو گا نہ گناہ کیا گیا ہو گا اور آسمان سونے کا ہوگا ۔یہ دو قول اگر چہ بظاہر ایک دوسرے کے مخالف معلوم ہوتے ہیں مگر ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ صحیح ہے وہ اس طرح کہ پہلی مرتبہ زمین و آسمان کی صفات تبدیل ہوںگی اور دوسری مرتبہ حساب کے بعد دوسری تبدیلی ہوگی۔ اس میں زمین و آسمان کی ذاتیں ہی بدل جائیں گی۔ (2)
وَتَـرَی الْمُجْرِمِیۡنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیۡنَ فِی الۡاَصْفَادِ ﴿ۚ۴۹﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1… صاوی، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۷، ۳/۱۰۳۱، خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۷، ۳/۹۱، ملتقطاً۔
2…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۸، ۳/۹۲۔