Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
195 - 601
وَقَدْ مَکَرُوۡا مَکْرَہُمْ وَعِنۡدَ اللہِ مَکْرُہُمْ ؕ وَ اِنۡ کَانَ مَکْرُہُمْ لِتَزُوۡلَ مِنْہُ الْجِبَالُ ﴿۴۶﴾ فَلَا تَحْسَبَنَّ اللہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ ؕ اِنَّ اللہَ عَزِیۡزٌ ذُوانْتِقَامٍ ﴿ؕ۴۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک وہ اپنا سا دانؤں چلے اور ان کا دانؤں اللّٰہ کے قابو میں ہے اور ان کا دانؤں کچھ ایسانہ تھا جس سے یہ پہاڑ ٹل جائیں ۔تو ہر گز خیال نہ کرنا کہ اللّٰہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلاف کرے گا بیشک اللّٰہ غالب ہے بدلہ لینے والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک انہوں نے اپنی سازش کی اور ان کی سازش اللّٰہ کے قابو میں تھی اور ان کی سازش کوئی ایسی نہیں تھی کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں ۔تو تم ہر گز خیال نہ کرنا کہ اللّٰہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا۔ بیشک اللّٰہ غالب بدلہ لینے والاہے۔
{وَقَدْ مَکَرُوۡا مَکْرَہُمْ:اور بیشک انہوں نے اپنی سازش کی۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اہلِ مکہ نے اسلام کو مٹانے اور کفر کی تائید کرنے کے لئے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ  سازش کرتے ہوئے یہ ارادہ کیاتھا کہ سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو شہید کر دیاجائے یا قید کر لیا جائے یا مکہ مُکرّمہ سے نکال دیا جائے ۔اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ  ان کی سازش اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے علم میں تھی اور ان کی سازش کوئی ایسی نہیں تھی کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی  آیات اور شریعتِ مصطفی کے اَحکام جو اپنی قوت و ثَبات میں مضبوط پہاڑوں کی مانند ہیں ،محال ہے کہ کافروں کے مکر اور اُن کی حیلہ انگیزیوں سے وہ اپنی جگہ سے ٹل سکیں ۔ (1)
	نوٹ:کفارِ مکہ کی اس سازش کی تفصیل سورہ اَنفال کی آیت نمبر 30کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
{فَلَا تَحْسَبَنَّ:تو تم ہر گز خیال نہ کرنا۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے سننے والے!تم ہر گز ایسا خیال نہ کرنا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اپنے رسولوںعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کئے ہوئے وعدے کے خلاف کرے گا، یہ تو ممکن ہی نہیں وہ ضرور وعدہ پورا کرے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۶، ص۵۷۴، جلالین، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۶، ص۲۱۰، ملتقطاً۔