اور ارشاد فرماتا ہے
’’اِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیۡدًا ۙ﴿۶﴾ وَّ نَرٰىہُ قَرِیۡبًا ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ اسے دور سمجھ رہے ہیں۔اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں
اور ارشاد فرماتا ہے
’’وَمَا یُدْرِیۡکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَکُوۡنُ قَرِیۡبًا‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس کا علم تو اللّٰہ ہی کے پاس ہے اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔
پھر ہماری سب سے اچھی حالت تو یہ ہے کہ ہم اس قرآن پاک کے سبق پر عمل کریں، لیکن ہم اس کے معانی میں غور نہیں کرتے اور روزِ قیامت کے بے شمار اَوصاف اور ناموں کو نہیں دیکھتے اور اس کے مَصائب سے نجات کے لیے کوشش نہیں کرتے ۔ہم اس غفلت سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ اپنی وسیع رحمت سے اس کا تَدارُک فرمائے۔ (3)
نوٹ:قیامت کے دن کے مزید حالات جاننے کے لئے احیاء العلوم جلد4سے ’’موت اور اس کے بعد کے حالات‘‘ کا بیان اوربہار شریعت حصہ اول سے ’’معاد وحشر کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں۔
وَ اَنۡذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاۡتِیۡہِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَکَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ؕ اَوَلَمْ تَکُوۡنُوۡۤا اَقْسَمْتُمۡ مِّنۡ قَبْلُ مَا لَکُمۡ مِّنۡ زَوَالٍ ﴿ۙ۴۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جب ان پر عذاب آئے گا تو ظالم کہیں گے اے ہمارے رب تھوڑی دیر ہمیں مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا مانیں اور رسولوں کی غلامی کریں تو کیا تم پہلے قسم نہ کھاچکے تھے کہ ہمیں دنیا سے کہیں ہٹ کر جانا نہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…معارج:۶،۷۔ 2…احزاب:۶۳۔
3…احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، الشطر الثانی، صفۃ یوم القیامۃ ودواہیہ واسامیہ، ۵/۲۷۶۔