ترجمۂکنزُالعِرفان: اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤجب ان پر عذاب آئے گا تو ظالم کہیں گے: اے ہمارے رب! تھوڑی دیر تک ہمیں مہلت دیدے تا کہ ہم تیری دعوت کو قبول کرلیں اور رسولوں کی غلامی کرلیں ۔(کہا جائے گا ، اے کافرو!) تو کیا تم پہلے قسم نہ کھاچکے تھے کہ تمہیں (تودنیا سے) ہٹنا ہی نہیں۔
{وَ اَنۡذِرِ النَّاسَ:اور لوگوں کو ڈراؤ۔} یعنی اے حبیب !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرائیں،اس دن جب ان پر عذاب آئے گا تو شرک اور گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے کہیں گے’’اے ہمارے رب !عَزَّوَجَلَّ، تھوڑی دیر کیلئے ہمیں دنیا میں واپس بھیج دے اور ہمیں مہلت دیدے تا کہ ہم سے جو قصور ہوچکے ان کی تلافی کرتے ہوئے تیری توحید کی دعوت کو قبول کر لیں اور تیرے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی غلامی کر لیں ۔ اس پر انہیں ڈانٹ ڈپٹ کی جائے گی اور فرمایا جائے گا کیا تم پہلے دنیا میں اس بات کی قسمیں نہ کھاچکے تھے کہ مرنے کے بعد بھی تم اسی حالت میں رہو گے اور آخرت کے گھر کی طرف منتقل نہ ہو گے ؟ (1)
وَّسَکَنۡتُمْ فِیۡ مَسٰکِنِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ وَتَبَیَّنَ لَکُمْ کَیۡفَ فَعَلْنَا بِہِمْ وَضَرَبْنَا لَکُمُ الۡاَمْثَالَ ﴿۴۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور تم ان کے گھروں میں بسے جنہوں نے اپنا برا کیا تھا اور تم پر خوب کھل گیا ہم نے ان کے ساتھ کیسا کیا اور ہم نے تمہیں مثالیں دے دے کر بتادیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم ان کے گھروں میں رہے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھااور تمہارے لئے بالکل واضح ہوگیا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور ہم نے تمہارے لئے مثالیں بیان کیں۔
{وَسَکَنۡتُمْ:اور تم رہے۔} یعنی تم ان لوگوں کے گھروں میں رہے جنہوں نے کفر اور گناہوں کا اِرتِکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا جیسے کہ قومِ نوح ،عاد اور ثمود وغیرہ کہ تم انہی کی بستیوں میں دورانِ سفر ٹھہرتے تھے یا ان کے قرب و جوار
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳/۹۰، مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۴، ص۵۷۳، ملتقطاً۔