Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
191 - 601
جس دن ان کو چہروں کے بل اوندھا گرایا جائے گا، جس دن ان کو اوندھے منہ جہنم میں ڈالا جائے گا، جس دن باپ اولاد کے کام نہ آسکے گا، جس دن آدمی اپنے بھائی، ماں اور باپ سے بھاگتا پھرے گا، جس دن لوگ بات نہیں کرسکیں گے اور نہ ان کو اجازت ہوگی کہ عذر پیش کریں، جس دن اللّٰہ تعالیٰ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا، جس دن لوگ ظاہر ہوں گے، جس دن وہ جہنم میں عذاب دیئے جائیں گے جس دن مال اور اولاد نفع نہیں دے گی، جس دن ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی ،ان کے لیے لعنت اور برا گھر ہوگا، جس دن عذر نا منظور ہوں گے اور دلوں کی آزمائش ہوگی، پوشیدہ باتیں ظاہر ہوں گی اور پردے اٹھ جائیں گے ،جس دن آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور آوازیں بند ہوں گی، اس دن توجہ کم ہوگی اور پوشیدہ باتیں ظاہر ہوں گی، گناہ بھی سامنے آجائیں گے جس دن لوگوں کو ان کے گواہوں سمیت چلایا جائے گا، بچے جوان ہوجائیں گے اور بڑے نشے میں ہوں گے، پس اس دن ترازو رکھے جائیں گے اور اعمال نامے کھولے جائیں گے،جہنم ظاہر کی جائے گی اور گرم پانی کو جوش دیا جائے گا،آگ مسلسل جلے گی اور کفار ناامید ہوں گے،آگ بھڑکائی جائے گی اور رنگ بدل جائیں گے، زبان گونگی ہوگی اور انسانی اعضا گفتگو کریں گے۔تو اے انسان! تجھے اپنے کریم رب عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں کس نے دھوکے میں ڈالا کہ تو نے دروازے بند کردیئے اورپردے لٹکادیئے اور لوگوں سے چھپ کر فسق و فجور میں مبتلا ہوگیا، پس جب تیرے اعضا تیرے خلاف گواہی دیں گے تو تو کیا کرے گا۔ اے غافلوں کی جماعت ! ہمارے لئے مکمل خرابی ہے، اللّٰہ تعالیٰ ہمارے پاس تمام رسولوں کے سردار (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کو بھیجے اور آپ پر روشن کتاب نازل فرمائے اور ہمیں قیامت کے ان اوصاف کی خبر دے، پھر ہماری غفلت سے بھی ہمیں آگاہ کرے اور ارشاد فرمائے
’’اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمْ وَہُمْ فِیۡ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوۡنَ ۚ﴿۱﴾ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ ذِکْرٍ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوۡہُ وَہُمْ یَلْعَبُوۡنَ ۙ﴿۲﴾ لَاہِیَۃً قُلُوۡبُہُمْ‘‘(1) 
ترجمۂکنزُالعِرفان: لوگوں کا حساب قریب آگیااور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔جب ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے کھیلتے ہوئے ہی سنتے ہیں۔ ان کے دل کھیل میں پڑے ہوئے ہیں۔
	پھر وہ ہمیں بتائے کہ قیامت قریب ہے،جیسا کہ ارشاد فرماتا ہے
’’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَ انۡشَقَّ الْقَمَرُ‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…انبیاء۱-۳۔	2…قمر:۱۔