Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
190 - 601
مُہۡطِعِیۡنَ مُقْنِعِیۡ رُءُوۡسِہِمْ لَایَرْتَدُّ اِلَیۡہِمْ طَرْفُہُمْ ۚ وَاَفۡـِٕدَتُہُمْ ہَوَآءٌ ﴿ؕ۴۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: بے تحاشا دوڑتے نکلیں گے اپنے سر اٹھائے ہوئے کہ ان کی پلک ان کی طرف لوٹتی نہیں اور ان کے دلوں میں کچھ سکت نہ ہوگی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: لوگ بے تحاشا اپنے سروں کو اٹھائے ہوئے دوڑتے جارہے ہوں گے، ان کی پلک بھی ان کی طرف نہیں لوٹ رہی ہوگی اور ان کے دل خالی ہوں گے۔
{مُہۡطِعِیۡنَ:لوگ بے تحاشا دوڑتے ہوئے جارہے ہوں گے۔} یعنی قیامت کے دن کی دہشت اور ہولناکی سے لوگوں کا حال یہ ہو گا کہ وہ اپنے سروں کو اٹھائے عَرصۂ محشر کی طرف بلانے والے یعنی حضرت اسرافیلعَلَیْہِ السَّلَام کی طرف بے تحاشا دوڑتے جا رہے ہوں گے اور  ان کی پلک تک نہ جھپک رہی ہو گی کہ اپنے آپ کو ہی دیکھ سکیں اور ان کے دل حیرت کی شدت اوردہشت کے مارے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے خالی ہوں گے۔حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیںکہ قیامت کے دن دل سینوں سے نکل کر گلوں میں آپھنسیں گے ،نہ باہر نکل سکیں گے نہ اپنی جگہ واپس جاسکیں گے اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اُس دن کی دہشت اور ہولناکی کی شدت کا یہ عالَم ہوگا کہ سراوپر اٹھے ہوں گے، آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور دل اپنی جگہ پر قرار نہ پاسکیں گے۔ (1)
قیامت کی ہولناکیاں:
	اس آیت میں قیامت کی چند ہولناکیاں بیان ہوئیں ،اس کی مزید ہولناکیاں سنئے ،چنانچہ امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’وہ دن جس میں کوئی شک نہیں ،وہ دن جس میں دلوں کے رازوں کا امتحان ہوگا، جس دن کوئی (کافر) نفس کسی نفس کے کام نہیں آئے گا، وہ دن جب آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی، جس دن کوئی ساتھی کسی ساتھی کے کام نہیں آئے گا ،جس دن کوئی کسی دوسرے نفس کے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوگا، جس دن (کفار کو) جہنم کی طرف بلایا جائے گا، 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۳، ص۵۷۳، جلالین، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۳، ص۲۱۰، خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۳، ۳/۹۰، ملتقطاً۔