Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
189 - 601
ترجمۂکنزالایمان: اور ہرگز اللّٰہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (اے سننے والے!)ہرگز اللّٰہ کو ان کاموں سے بے خبر نہ سمجھنا جو ظالم کررہے ہیں۔ اللّٰہ انہیں صرف ایک ایسے دن کیلئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔
{وَلَا تَحْسَبَنَّ اللہَ غَافِلًا: اور ہرگز اللّٰہ کو بے خبر نہ سمجھنا ۔}اس آیت میں ہر مظلوم کے لئے تسلی اور ہر ظالم کے لئے وعید ہے ،نیز اس آیت میں ایک مشہور مقولے کی تائید بھی ہے کہ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ اے سننے والے !تم یہ نہ سمجھنا کہ اللّٰہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو سزا نہیں دے گا اور نہ ہی ظالموں سے عذاب مؤخر ہونے کی وجہ سے غمزدہ ہونا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ انہیں بغیر عذاب کے صرف ایک ایسے دن کیلئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں دہشت کے مارے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ (1)
 ظالم کے لئے وعید:
	یاد رہے کہ ظالموں کا اُخروی عذاب تو اپنی جگہ ،دنیا میں بھی اللّٰہ تعالیٰ ظالموں کی گرفت فرماتا ہے ،چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بے شک اللّٰہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے اور جب اس کی پکڑ فرما لیتا ہے تو پھر اسے مہلت نہیں دیتا۔پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ آیت تلاوت فرمائی
وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰی وَہِیَ ظٰلِمَۃٌ ؕ اِنَّ اَخْذَہٗۤ اَلِیۡمٌ شَدِیۡدٌ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے جبکہ وہ بستی والے ظالم ہوں بیشک اس کی پکڑ بڑی شدید دردناک ہے ۔(3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلالین مع صاوی، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۲، ۳/۱۰۲۹-۱۰۳۰۔
2…ہود:۱۰۲۔
3…بخاری، کتاب التفسیر، باب وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری وہی ظالمۃ۔۔۔ الخ، ۳/۲۴۷، الحدیث: ۴۶۸۶۔