ترجمۂکنزُالعِرفان: اے میرے رب! مجھے اور کچھ میری اولاد کونماز قائم کرنے والا رکھ، اے ہمارے رب اور میری دعا قبول فرما۔ اے ہمارے رب! مجھے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو بخش دے جس دن حساب قائم ہوگا۔
{وَمِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ:اورکچھ میری اولاد کو۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو چونکہ بعض افراد کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ کے بتانے سے معلوم ہو چکا تھا کہ وہ کافر ہوں گے اس لئے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی بعض اولاد کے لئے نمازوں کی پابندی اور محافظت کی دعا کی۔ (1)
{وَلِوَالِدَیَّ:اور میرے ماں باپ کو۔} علماء فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ماں باپ سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حقیقی والدین مراد ہیں اور وہ دونوں مومن تھے اسی لئے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان کے لئے دعا فرمائی، جبکہ سورہ توبہ کی اس آیت ’’وَ مَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ اِلَّا عَنۡ مَّوْعِدَۃٍ‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ابراہیم کا اپنے باپ کی مغفرت کی دعا کرنا صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا۔‘‘
میں باپ سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا چچا آزر مراد ہے ،سگے والد مراد نہیں ۔ (3)
دعا کے چند آداب:
اس آیت سے دعا کے چند آداب معلوم ہوئے ۔ (1) دعا اپنی ذات سے شروع کرے۔ (2) ماں باپ کو دعا میں شامل رکھا کرے ۔ (3) ہر مسلمان کے حق میں دعائے خیر کرے۔ (4) آخرت کی دعا ضرور مانگے صرف دنیا کی حاجات پر قناعت نہ کرے۔ (4)
وَلَا تَحْسَبَنَّ اللہَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ ۬ؕ اِنَّمَا یُؤَخِّرُہُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیۡہِ الۡاَبْصَارُ ﴿ۙ۴۲﴾
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۰، ص۵۷۲-۵۷۳۔
2…توبہ:۱۱۴۔
3…روح البیان، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۱، ۴/۴۳۰، ملخصاً۔
4…دعا کے مزید آداب جاننے کے لئے کتاب’’فضائلِ دعا‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔