اپنے یہاں رہنے والی اولاد کے لئے یہ دعا ہے کہ وہ زیارت کے لئے آنے والوں سے فائدہ حاصل کرتے رہیں۔ غرض یہ دعا دینی دنیوی دونوں طرح کی برکات پر مشتمل ہے۔ حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا قبول ہوئی اور قبیلہ جُرْہَم نے اس طرف سے گزرتے ہوئے ایک پرندہ دیکھا تو انہیں تعجب ہوا کہ بیابان میں پرندہ کیسا !شاید کہیں چشمہ نمودار ہوا ہے، جستجو کی تو دیکھا کہ زمزم شریف میں پانی ہے یہ دیکھ کر ان لوگوں نے حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے وہاں بسنے کی اجازت چاہی ،انہوں نے اس شرط سے اجازت دی کہ پانی میں تمہارا حق نہ ہوگا۔ وہ لوگ وہاں بسے اور حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جوان ہوئے تو اُن لوگوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے تقویٰ اور پرہیزگاری کو دیکھ کر اپنے خاندان میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی شادی کردی،کچھ عرصے بعد حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا وصال ہو گیا۔ اس طرح حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی یہ دعا پوری ہوئی اور آپ نے دعا میں یہ بھی فرمایا’’ اور انہیں پھلوں سے رزق عطا فرما، تاکہ وہ شکر گزار ہوجائیں۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اسی دعاکا ثمرہ ہے کہ بہار، خزاں اور گرمی سردی کی مختلف فصلوں کے میوے وہاں بیک وقت موجود ملتے ہیں۔ (1)
رَبَّنَاۤ اِنَّکَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیۡ وَمَا نُعْلِنُ ؕ وَمَا یَخْفٰی عَلَی اللہِ مِنۡ شَیۡءٍ فِی الۡاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ ﴿۳۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے ہمارے رب تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے اور اللّٰہ پر کچھ چھپا نہیں زمین میں نہ آسمان میں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ہمارے رب! تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیںاور اللّٰہ پر زمین اور آسمان میں کوئی بھی شے پوشیدہ نہیں۔
{رَبَّنَاۤ:اے ہمارے رب!} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے ہمارے رب ! عَزَّوَجَلَّ، تو ہمارے حالات کو،ہماری ضرورتوں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۷، ص۵۷۲، خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۷، ۳/۸۷-۸۸، روح البیان، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۷، ۴/۴۲۷، ملتقطاً۔