اتارا، یہاں اُس وقت نہ کوئی آبادی تھی نہ کوئی چشمہ نہ پانی، ایک توشہ دان میں کھجوریں اور ایک برتن میں پانی انہیں دے کر آپ واپس ہوئے اور مڑ کر اُن کی طرف نہ دیکھا ،حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے عرض کی ’’ آپ کہاں جاتے ہیں اور ہمیں اس وادی میں انیس و رفیق کے بغیر چھوڑے جاتے ہیں ؟لیکن حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اس بات کا کوئی جواب نہ دیا اورا س کی طرف توجہ نہ فرمائی۔ حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے چند مرتبہ یہی عرض کیا اور جواب نہ پایا تو کہا کہ’’ کیا اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’ ہاں۔یہ سن کر انہیں اطمینان ہو گیا، حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامتشریف لے گئے اور انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی جو آیت میں مذکور ہے ۔ حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اپنے فرزند حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دودھ پلانے لگیں ،جب ان کے پاس موجود پانی ختم ہوگیا اور پیاس کی شدت ہوئی اور صاحب زادے کا حلق شریف بھی پیاس سے خشک ہوگیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپانی کی جستجو یا آبادی کی تلاش میں صفا و مروہ کے درمیان دوڑیں،ایسا سات مرتبہ ہوا یہاں تک کہ فرشتے کے پر مارنے سے یا حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے قدم مبارک سے اس خشک زمین میں ایک چشمہ (زمزم) نمودار ہوا ۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ واقعہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے آگ میں ڈالے جانے کے بعد ہوا، آگ کے واقعہ میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے دعا نہ فرمائی تھی اور اس واقعہ میں دعا کی اور عاجزی کا اظہار کیا ۔ اللّٰہ تعالیٰ کی کارسازی پر اعتماد کرکے دعا نہ کرنا بھی توکل اور بہتر ہے لیکن مقامِ دعا اس سے بھی افضل ہے تو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اس دوسرے واقعہ میں دعا فرمانا اس لئے ہے کہ آپ مدارجِ کمال میں دَمبدم ترقی پر ہیں۔ (1)
{رَبَّنَا لِیُـقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ:اے میرے رب ! تاکہ وہ نماز قائم رکھیں۔}یعنی اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، میںنے اپنی اولاد کو ناقابلِ زراعت وادی میں اس لئے ٹھہرایا تاکہ حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور اُن کی اولاد اس وادی میں تیرے ذکر اور تیری عبادت میں مشغول ہوں اور تیرے بیتِ حرام کے پاس نماز قائم کریں ۔اے اللّٰہ !عَزَّوَجَلَّ، تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے تاکہ وہ اس وادی کے اَطراف اور دیگر شہروں سے یہاں آئیں اور ان کے دل اس پاکیزہ مکان کی زیارت کے شوق میں کھینچیں۔ اس میں ایماندار وں کے لئے یہ دعا ہے کہ انہیں بیتُ اللّٰہ کا حج مُیَسّر آئے اور
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۷، ۳/۸۷-۸۸، ملخصاً۔