Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
186 - 601
اور ہمارے نقصانات کو جانتا ہے اور تو ہم پر ہم سے زیادہ رحم فرماتا ہے، اس لئے تیری بارگاہ میں ہمیں دعا کرنے کی حاجت تو نہیں لیکن ہم تیرے حضور دستِ دعا اس لئے بلند کرتے ہیں تاکہ ہم تیرے آگے اپنی بندگی کا اظہار کریں، تیری عظمت و جلال سے خوف کھائیں۔ (1)
{وَمَا یَخْفٰی عَلَی اللہِ مِنۡ شَیۡءٍ:اور اللّٰہ پر کوئی بھی شے پوشیدہ نہیں۔} ایک قول یہ ہے کہ حضر ت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تصدیق کے طور اللّٰہ تعالیٰ نے یہ کلا م فرمایا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہی کلام ہے اور معنی یہ ہے کہ جو ہر جگہ میں چھی ہوئی چیزوں کو جانتا ہے ا س سے کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں۔ (2)
اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیۡ وَہَبَ لِیۡ عَلَی الْکِبَرِ اِسْمٰعِیۡلَ وَ اِسْحٰقَ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَسَمِیۡعُ الدُّعَآءِ ﴿۳۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: سب خوبیاں اللّٰہ کو جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمٰعیلو اسحاق دیئے بیشک میرا رب دعا سننے والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تمام تعریفیں اس اللّٰہ کیلئے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمٰعیلو اسحاق دئیے۔ بیشک میرا رب دعا سننے والا ہے۔
{اَلْحَمْدُ لِلہِ:تمام تعریفیں اللّٰہ کیلئے ہیں  ۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ایک اور فرزند کی دعا کی تھی اللّٰہ تعالیٰ نے قبول فرمائی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس کا شکر ادا کیا اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا ’’تمام تعریفیں اس اللّٰہ تعالیٰ کیلئے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود حضرت اسمٰعیلاور حضرت اسحاق عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامدئیے۔ بیشک میرا رب عَزَّوَجَلَّمیری دعا قبول فرمانے والا ہے۔ حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی ولادت اس وقت ہوئی جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی عمر99 برس ہو چکی تھی اور حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت اس وقت ہوئی جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمر مبارک 112 برس ہو چکی تھی۔ (3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۸، ۳/۸۸۔
2…تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۸، ۷/۱۰۵۔
3…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۹، ۳/۸۹، جلالین، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۹، ص۲۰۹، ملتقطاً۔