Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
183 - 601
رَبَّنَاۤ اِنِّیۡۤ اَسْکَنۡتُ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ بِوَادٍ غَیۡرِ ذِیۡ زَرْعٍ عِنۡدَ بَیۡتِکَ الْمُحَرَّمِ ۙ رَبَّنَا لِیُـقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہۡوِیۡۤ اِلَیۡہِمْ وَارْزُقْہُمۡ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُوۡنَ ﴿۳۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں ہوتی تیرے حرمت والے گھر کے پاس اے ہمارے رب اس لیے کہ وہ نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کردے اور انہیں کچھ پھل کھانے کو دے شاید وہ احسان مانیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ہمارے رب! میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے عزت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں ٹھہرایا ہے جس میں کھیتی نہیں ہوتی۔ اے ہمارے رب ! تاکہ وہ نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور انہیں پھلوں سے رزق عطا فرماتاکہ وہ شکر گزار ہوجائیں۔
{رَبَّنَاۤ:اے میرے رب! }  اس آیت میں وادی سے مراد وہ جگہ ہے جہاں اب مکہ مکرمہ ہے ۔ ذُرِّیَّت سے حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مراد ہیں اور حرمت والے گھر سے بیتُ اللّٰہ مراد ہے جو طوفانِ نوح سے پہلے کعبہ مقدسہ کی جگہ تھا اور طوفان کے وقت آسمان پر اٹھالیا گیا۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اس دعا کا پسِ منظر یہ ہے کہ حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سرزمینِ شام میں حضرت ہاجرہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکے بطنِ پاک سے پیدا ہوئے جبکہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیوی حضرت سارہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکے ہاں کوئی اولاد نہ تھی، اس وجہ سے ان کے دل میں کچھ جذبات پیدا ہوئے اور انہوں نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا کہ آپ ہاجرہ اور اُن کے بیٹے کو میرے پاس سے جدا کردیجئے ۔حکمتِ الٰہی نے یہ ایک سبب پیدا کیا تھا ،چنانچہ وحی آئی کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اور حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اس سرزمین میں لے جائیں جہاں اب مکہ مکرمہ ہے۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان دونوں کو اپنے ساتھ براق پر سوارکرکے شام سے سرزمینِ حرم میں لائے اور کعبہ مقدسہ کے نزدیک