نے سورج کو پیدا کیا اور اسے مُسخر کیا حالانکہ وہ زمین سے بہت دور ہے۔ایک وقت میں زمین کو گرم کرتا ہے اور ایک وقت میں نہیں تاکہ ٹھنڈک کی ضرورت ہو تو وہ ٹھنڈک دے اور گرمی کی حاجت ہو تو گرمی دے اور چاند کو پیدا کیا اور اس کی خاصیت مرطوب بنانا ہے جس طرح سورج کی خاصیت حرارت پہنچانا ہے تووہ چاند پھلوں کوپکاتا اور رنگین کرتا ہے اور یہ سب کچھ پیدا کرنے والے حکیم کی طرف سے مقرر کردہ ہے اور آسمان کے تمام ستاروں کو کسی نہ کسی فائدے کے لئے مسخر کیا گیا ہے جس طرح سور ج کو حرارت دینے اور چاند کو رطوبت دینے کے لئے مسخر کیا گیا ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ ان میںسے ہر ایک میں بے شمار حکمتیں ہیں جن کا شمار کرنا انسانی طاقت سے باہر ہے۔ (1)
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰہِیۡمُ رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِیۡ وَبَنِیَّ اَنۡ نَّعْبُدَ الۡاَصْنَامَ ﴿ؕ۳۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی اے میرے رب اس شہر کو امان والا کردے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کے پوجنے سے بچا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی: اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنادے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کی عبادت کرنے سے بچا ئے رکھ۔
{وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰہِیۡمُ:اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، مکہ مکرمہ کو امن والا شہر بنا دے کہ قیامت کے قریب دنیا کے ویران ہونے کے وقت تک یہ شہر ویرانی سے محفوظ رہے یا اس شہر والے امن میں ہوں۔ (2)
مکہ مکرمہ ویران ہونے سے محفوظ ہے:
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی یہ دعا قبول ہوئی اور اللّٰہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو ویران ہونے سے محفوظ فرما
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…احیاء العلوم، کتاب الصبر والشکر، بیان وجہ الانموذج فی کثرۃ نعم اللّٰہ تعالٰی۔۔۔ الخ، ۴/۱۴۲-۱۴۳، ملخصاً۔
2…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳/۸۶، ملخصاً۔