Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
179 - 601
(3)… تمہیں ہر وہ چیز عطا کر دی جس کی تمہیں ضرورت تھی اور تم نے اس کیلئے زبانِ حال سے سوا ل کیا تھا۔ (1) 
{وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعْمَتَ اللہِ لَاتُحْصُوۡہَا:اور اگر تم اللّٰہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر نعمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ اگر کوئی انہیں شمار کرنا چاہے تو ان کی کثرت کی وجہ سے شمار ہی نہیں کر سکتا۔یہاں نعمت ِ الٰہی کے حوالے سے ہم اِحیاء العلوم کی روشنی میں صرف ایک مثال بیان کرتے ہیں اور اسی سے سمجھ لیں کہ ہر چیز میں اگر اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگیں تو عین الیقین کے طور پر یہ بات سامنے آجائے گی کہ ہم اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہیں تو گن نہیں سکتے۔ چنانچہ امام غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’کھائی جانے والی چیزوں کی تخلیق میں اللّٰہ تعالیٰ نے اتنے عجائبات رکھے ہیں کہ انہیں شمار ہی نہیں کیا جا سکتا ۔ صرف گندم ہی کو لے لیجئے کہ جب تمہارے پاس کچھ گندم ہو اور تم اسے کھا تے رہو تو وہ گندم ختم ہو جائے گی اور تم بھوکے رہ جاؤ گے لہٰذا تمہیں ایسا کام کرنے کی حاجت ہے کہ جس سے گندم کے دانے اتنے زیادہ ہو جائیں کہ تمہاری ضرورت کو کافی ہوں اور وہ کام گندم کو کاشت کرنا ہے،ا س کی صورت یہ ہو گی کہ تم گندم کے دانے کو ایسی زمین میں ڈالو جس میں پانی ہو اور وہ پانی زمین سے مل کر گارا بن چکا ہو ،پھر صرف پانی اور مٹی ہی کافی نہیں کیونکہ اگر تم اس گندم کو ایسی زمین میں چھوڑ دو گے جو سخت اور باہم مُتَّصل ہو تو ہو انہ پہنچنے کی وجہ سے گندم اُگے گی ہی نہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ گندم کا دانہ ایسی زمین میں چھوڑا جائے جو نرم اور پلپلی ہو تاکہ ہوا اس میں داخل ہو سکے ۔ پھر ہو اخود بخود حرکت نہیں کرتی لہٰذا ایسی آندھی کی ضرورت ہے جو ہوا کو حرکت دے اور اسے زور زور سے زمین پر مارے تاکہ وہ اس کے اندر چلی جائے ۔ پھر اگر بہت زیادہ سردی ہو تو یہ سب کچھ فائدہ نہیں دیتا لہٰذا بہار اور گرمی کی ضرورت ہوئی۔ پھر ا س پانی کی طرف دیکھو جس کی گندم کاشت کرنے میں حاجت ہے،اسے اللّٰہ تعالیٰ نے کس طرح پیدا فرمایا پھر ا س سے چشمے اور نہریں جاری فرمائیں،پھر بعض اوقات زمین بلندی پر ہوتی ہے اور پانی اس تک پہنچ نہیں سکتا تو دیکھو کس طرح اللّٰہ تعالیٰ نے بادل بنائے اور ان پر کیسے ہو اکو مُسَلط کیا تاکہ وہ اِذنِ خداوندی سے ان کو زمین کے مختلف کناروں تک لے جائے حالانکہ بادل پانی سے بھرے ہوئے بھاری ہوتے ہیں۔ پھر کس طرح اللّٰہ تعالیٰ ضرورت کے مطابق بہار اور خزاں کے موسم میں بارش برساتا ہے اور دیکھو کہ اللّٰہ تعالیٰ نے کس طرح پہاڑ بنائے جو پانی کی حفاظت کرتے ہیں اور ان سے بَتدریج پانی نکلتا ہے اگر یکدم پانی نکلے تو شہر غرق ہو جائیں اور جانور وغیرہ ہلاک ہو جائیں اور دیکھو کہ کس طرح اللّٰہ تعالیٰ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بیضاوی، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳/۳۵۰۔