دیا اور کوئی بھی اس مقدس شہر کو ویران کرنے پر قادر نہ ہوسکا اور اس شہر کو اللّٰہ تعالیٰ نے حرم بنایا کہ اس میں نہ کسی انسان کا خون بہایا جائے ،نہ کسی پر ظلم کیا جائے، نہ وہاں شکار مارا جائے اور نہ سبزہ کاٹا جائے۔ (1)
{وَاجْنُبْنِیۡ وَبَنِیَّ اَنۡ نَّعْبُدَ الۡاَصْنَامَ:اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کی عبادت کرنے سے بچا ئے رکھ۔} یاد رہے کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بت پرستی اور تمام گناہوں سے معصوم ہیں حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ دعا کرنا بارگاہِ الٰہی میں عاجزی اور محتاجی کے اظہار کے لئے ہے کہ باوجودیہ کہ تو نے اپنے کرم سے معصوم کیا لیکن ہم تیرے فضل و رحمت کی طرف دستِ احتیاج دراز رکھتے ہیں۔ (2)
رَبِّ اِنَّہُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ فَمَنۡ تَبِعَنِیۡ فَاِنَّہٗ مِنِّیۡ ۚ وَمَنْ عَصَانِیۡ فَاِنَّکَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اے میرے رب بیشک بتوں نے بہت لوگ بہکا دیے تو جس نے میرا ساتھ دیا وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے میرے رب! بیشک بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا تو جو میرے پیچھے چلے تو بیشک وہ میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے۔
{رَبِّ:اے میرے رب!}آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا فرمائی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، بیشک بتوں کی وجہ سے بہت سے لوگ ہدایت اور حق کے راستے سے دور ہو گئے حتّٰی کہ لوگ بتوں کو پوجنے لگے اور تیرے ساتھ کفر کرنے لگ گئے تو جو میرے طریقے پر ہو یعنی اطاعت و فرمانبرداری کے طریقے پر ہو تو بیشک وہ میری سنت پر عمل پیرا ہے اور جو میرا نافرمان ہو تو اس کا معاملہ تیرے ہی حوالے ہے ،بے شک تو گناہگاروں کے گناہوں اور ان کی خطاؤں کو اپنے فضل سے بخشنے والا ہے اور اپنے بندوں پر رحم فرمانے والا ہے ،اور لوگوں میں سے جسے چاہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلالین، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۵، ص۲۰۹۔
2…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳/۸۶، ملخصاً۔