میں چاند نکل آتا ہے تاکہ تمہاری جانوں اور معاش کی درستی رہے اورجب سے اللّٰہ تعالیٰ نے سورج اور چاندکو پیدا فرمایا ہے تب سے وہ اپنے اپنے محل میں گردش کر رہے ہیں اور اسی طرح قیامت تک گردش کرتے رہیں گے،اپنی گردش کی وجہ سے نہ کمزور پڑیں گے اور نہ ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گے اور تمہارے مَنافع اور اَسباب کی درستی کے لیے رات اور دن کومسخر کردیا ہے،رات جاتی ہے تو دن نکل آتا ہے ،دن ختم ہوتا ہے تو رات آ جاتی ہے،دن میں تم اپنے معاش کے کاموں میں مصروف ہوتے ہو اور رات میں آرام کرتے ہو، یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی تم پر رحمت ہے۔ (1)
وَاٰتٰىکُمۡ مِّنۡ کُلِّ مَا سَاَلْتُمُوۡہُ ؕ وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعْمَتَ اللہِ لَاتُحْصُوۡہَا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَظَلُوۡمٌ کَفَّارٌ ﴿٪۳۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہیں بہت کچھ منہ مانگا دیااور اگر اللّٰہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے بیشک آدمی بڑا ظالم ناشکرا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس نے تمہیں وہ بھی بہت کچھ دیدیا جو تم نے اس سے مانگا اور اگر تم اللّٰہ کی نعمتیں گنو توانہیں شمار نہ کر سکو گے، بیشک انسان بڑا ظالم ناشکرا ہے ۔
{وَاٰتٰىکُمۡ مِّنۡ کُلِّ مَا سَاَلْتُمُوۡہُ:اور اس نے تمہیں وہ بھی بہت کچھ دیدیا جو تم نے اس سے مانگا ۔} اس سے پہلی آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی ان عظیم ترین نعمتوں کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنے بندوں پر فرمائیں اور اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو صرف یہی نعمتیں عطا نہیں کیں بلکہ ان کی بے شمار منہ مانگی مرادیں بھی پوری فرمائی ہیں۔ (2) مفسرین نے اس آیت کے مختلف معنی بیان فرمائے ہیں۔
(1)…تم نے جو کچھ اللّٰہ تعالیٰ سے مانگا اس میں سے کچھ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی مَشِیَّت اور حکمت کے مطابق عطا فرما دیا۔ (3)
(2)…اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو ہر وہ چیز عطا کر دی جس کی اسے حاجت اور ضرورت تھی ، چاہے ا س نے سوال کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیر طبری، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۳، ۷/۴۵۷-۳۵۸، صاوی، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۳، ۳/۱۰۲۴-۱۰۲۵، ملتقطاً۔
2…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳/۸۵۔
3…ابوسعود، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳/۱۹۴۔