اور اس کے علم و قدرت کے کمال پر دلالت کرتے ہیں۔اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات میں کل دس دلائل بیان ہوئے ہیں (1)آسمانوں کو پیدا کرنا۔(2)زمین کو پیدا کرنا۔(3) آسمان سے پانی اتار کراس کے ذریعے لوگوں کے کھانے کیلئے کچھ پھل نکالنا۔ (4) کشتیوں کولوگوں کے قابو میں دینا تا کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے دریا میں چلے۔ (5) دریا لوگوں کے قابو میں دینا۔(6،7) سورج اور چاندکو لوگوں کے لئے کام پر لگادینا جو برابر چل رہے ہیں۔ (8،9) لوگوں کے لیے رات اور دن کومُسخر کردینا۔(10) لوگوں کو بہت کچھ ان کی منہ مانگی چیزیں دینا۔ (1)
{اَللہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ:اللّٰہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین کو بغیر کسی چیز کے پیدا فرمایا اور آسمان سے بارش کا پانی نازل فرمایا جس کے ذریعے درختوں اور کھیتیوں کی نشوونما ہوئی تو ان پر تمہارے کھانے کے لئے پھل اُگے اور کشتیوں کوتمہارے قابو میں دیدیا تا کہ وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے دریا میں چلیں ،تم ان کشتیوں پر سوار ہوتے ہو اوران کے ذریعے ایک شہر سے دوسرے شہر اپنے سازو سامان کی نقل و حمل کرتے ہو اور دریاؤں کا پانی بھی تمہار ے قابو میں دیدیا ۔خلاصہ یہ ہے کہ اے شرک کرنے والو! عبادت اور اطاعت کا مستحق وہی ہے جس کے یہ اوصاف ہیں، تمہارے معبود بت جو نہ اپنے آپ کو اورنہ کسی اور کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں وہ ہر گز عبادت کے لائق نہیں۔ (2)
وَسَخَّرَلَکُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَیۡنِ ۚ وَسَخَّرَلَکُمُ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ ﴿ۚ۳۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہارے لیے سورج اور چاند مسخر کیے جو برابر چل رہے ہیں اور تمہارے لیے رات اور دن مسخر کیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہارے لیے سورج اور چاندکو کام پر لگادیا جو برابر چل رہے ہیں اور تمہارے لیے رات اور دن کومسخر کردیا۔
{وَسَخَّرَلَکُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ:اور تمہارے لیے سورج اور چاندکو کام پر لگادیا۔}اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہی ہے جس نے سور ج اور چاند کو تمہارے لئے کام پر لگا دیا، دن میں سورج طلوع ہو جاتا ہے اور رات
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۲، ۷/۹۶۔
2…تفسیر طبری، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۲، ۷/۴۵۷۔