قیامت کے دن نفسانی دوستی فائدہ نہ دے گی:
یاد رہے کہ اس آیت میں نفسانی اورطبعی دوستی کی نفی ہے اور ایمانی دوستی جومحبتِ الٰہی کے سبب سے ہو وہ باقی رہے گی جیسا کہ سورۂ زُخرف کی آیت نمبر 67 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیۡنَ (1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔ (2)
اَللہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ وَاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّکُمْ ۚ وَسَخَّرَلَکُمُ الْفُلْکَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِہٖ ۚ وَسَخَّرَلَکُمُ الۡاَنْہٰرَ ﴿ۚ۳۲﴾ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل تمہارے کھانے کو پیدا کیے اور تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا کہ اس کے حکم سے دریا میں چلے اور تمہارے لیے ندیاں مسخر کیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا تو اس کے ذریعے تمہارے کھانے کیلئے کچھ پھل نکالے اور کشتیوں کوتمہارے قابو میں دیدیا تا کہ اس کے حکم سے دریا میں چلے اور دریا تمہارے قابو میں دیدئیے۔
{اَللہُ:اللّٰہ ہی ہے۔}اس سے پہلی آیات میں سعادت مندوں اور بدبختوں کے احوال بیان ہوئے اور چونکہ سعادت کے حصول کا اہم ترین ذریعہ اللّٰہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت ہے اور بد بختی کا اہم ترین سبب اس معرفت سے محرومی ہے اس لئے سعادت مندوں اور بدبختوں کے احوال کے بعد وہ دلائل بیان فرمائے گئے ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ کے موجود ہونے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…زخرف: ۶۷۔
2…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۱، ۳/۸۵، ملخصاً۔