ہے کہ اس شہر میں اس کے دوبھائیوں کو مار دیا گیا ہے ،یہ ان کی یاد میں غمگین رہتا ہے اور میری طرف بالکل متوجہ نہیں ہوتا ۔ اگر ایسا ہوجائے کہ ہمیں اس شہر سے کسی دو سرے شہر میںمنتقل کردیا جائے اور بادشاہ سے مزید کچھ دنوں کی مہلت لے لی جائے تو نئے شہر میں جانے سے اس نوجوان کا غم کم ہوجائے گا، پھر میں اسے ضرور اپنی طرف مائل کرلوں گی۔ چنانچہ جب گورنر نے بادشاہ سے صورتِ حال بیان کی تو اس نے دونوں باتیں منظور کرلیں اور انہیں دوسرے شہر میں بھیج دیا گیا۔ وہاں وہ لڑکی روزانہ نئے نئے انداز سے بناؤ سنگھار کر کے نوجوان کو مائل کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن اس مجاہد کے معمول میں ذرہ برابر فرق نہ آیا، حتّٰی کہ ایک رات یوں ہوا کہ وہ اس نوجوان کے پا س آئی اور کہنے لگی: میں تمہاری عبادت وریاضت اور پاکدامنی سے بہت متاثر ہوئی ہوں اور اب میں تمہارے دین سے محبت کرنے لگی ہوں کہ جس کی تعلیمات میں یہاں تک اچھائی ہے کہ کسی غیر عورت کو نہ دیکھا جائے تو یقینا وہی دین حق ہے۔ میں آج اور ابھی عیسائیت سے توبہ کرکے تمہارے دین میں داخل ہوتی ہوں۔ مجھے کلمہ پڑھاکر اپنے دین میں داخل کرلیجئے ۔ پھراس لڑکی نے سچے دل سے عیسائیت سے توبہ کی اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئی ۔ (1)
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ بَدَّلُوۡا نِعْمَتَ اللہِ کُفْرًا وَّاَحَلُّوۡا قَوْمَہُمْ دَارَ الْبَوَارِ ﴿ۙ۲۸﴾ جَہَنَّمَ ۚ یَصْلَوْنَہَا ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ ﴿۲۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہوں نے اللّٰہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اتارا۔ وہ جو دوزخ ہے اس کے اندر جائیں گے اور کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہوں نے اللّٰہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر اتارڈالا۔ جو دوزخ ہے اس میں داخل ہوںگے اور وہ کیا ہی ٹھہرنے کی بری جگہ ہے۔
{اَلَّذِیۡنَ بَدَّلُوۡا نِعْمَتَ اللہِ کُفْرًا:جنہوں نے اللّٰہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا۔} اس آیت سے اللّٰہ تعالیٰ نے کفار کے برے احوال کا ذکر فرمایا ہے ۔ (2) بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ جن لوگوں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا ان سے مراد کفارِ مکہ ہیں اور وہ نعمت جس کی انہوں نے شکر گزاری نہ کی وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…عیون الحکایات، الحکایۃ التسعون بعد المائۃ، ص۱۹۷-۱۹۸۔
2…تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۸، ۷/۹۴۔