عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہیں ۔ (1)آیت کا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے دو عالَم کے سردار، محمدمصطفیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وجود سے کفارِ قریش کو نوازا اور ان کی زیارت سراپا کرامت کی سعادت سے مشرف کیا، ا س لئے ان پرلازم تھا کہ وہ اس نعمت ِجلیلہ کا شکر بجا لاتے اور ان کی پیروی کرکے مزید کرم کے حق دار ہوتے لیکن اس کی بجائے انہوں نے ناشکری کی اور نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا انکار کیا اور اپنی قوم کو جو دین میں ان کے موافق تھے ہلاکت کے گھر میں پہنچا دیا۔ (2)
وَ جَعَلُوۡا لِلہِ اَنۡدَادًا لِّیُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ قُلْ تَمَتَّعُوۡا فَاِنَّ مَصِیۡرَکُمْ اِلَی النَّارِ ﴿۳۰﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور اللّٰہ کے لیے برابر والے ٹھہرائے کہ اس کی راہ سے بہکاویں تم فرماؤ کچھ برت لو کہ تمہارا انجام آگ ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور انہوں نے اللّٰہ کے لیے برابر والے قرار دئیے تاکہ اس کی راہ سے بھٹکا دیں، تم فرماؤ: فائدہ اٹھالو پھر بیشک تمہیں آگ کی طرف لوٹنا ہے۔
{قُلْ تَمَتَّعُوۡا:تم فرماؤ: فائدہ اٹھالو ۔} کفار سے فرمایا گیا کہ اگرچہ تم شرک کے مرتکب ہو لیکن چند دن دنیا کی زندگی سے فائدہ اٹھالو پھر اس کے بعد تمہیں جہنم ہی کی طرف جانا ہے۔
سورۂ ابراہیم کی آیت28 تا 30 سے حاصل ہونے والی معلومات:
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: ان آیات سے چند باتیں معلوم ہوئیں:
(1)… جس طرح شکر نعمت میں اضافے کا سبب ہے اسی طرح ناشکری زوالِ نعمت کا سبب ہے (اس لئے ہر ایک کو نا شکری سے بچنا چاہئے)
(2)…برا ساتھی بندے کو جہنم کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے اور اسے تباہی کے گھر میں اتار دیتا ہے اس لئے ہر مخلص
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب المغازی، باب قتل ابی جہل، ۳/۱۱، الحدیث: ۳۹۷۷۔
2…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۸، ۳/۸۴۔