سکتے، اس دین کی خاطر سر کٹانا ہمارے لئے بہت بڑی سعادت ہے۔ تم ہمارے ساتھ جو چاہے کرو، اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے پائے اِستقلال میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آئے گا۔ یہ کہہ کر تینوں بھائی بیک وقت شاہ ِروم کے دربار میں کھڑے ہوکر نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہِ بے کس پناہ میں اِستغاثہ کرتے ہوئے ’’یا محمداہ ! یا محمداہ ! یا محمداہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!‘‘کی صدائیں بلند کرنے لگے ۔
جب بادشاہ نے یہ دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا اور اس نے انہیں دردناک سزا دینے کی دھمکی دے کر دینِ اسلام چھوڑنے کا کہا، لیکن ان بھائیوں نے اس کی دھمکی کی پرواہ نہ کی تو بادشاہ نے اپنے جلادوں کو حکم دیا کہ تین بڑی بڑی دیگوں میں تیل ڈال کر ان کے نیچے آگ جلا دو۔ جب تیل خوب گرم ہوجائے اورکھولنے لگے تو مجھے اطلاع کردینا ۔ جلاد حکم پاتے ہی دوڑے اور تین دیگوں میں تیل ڈال کر ان کے نیچے آگ لگادی۔ مسلسل تین دن تک وہ دیگیں آگ پر رکھی رہیں اور ان مجاہدین کو روزانہ نصرانیت کی دعوت دی جاتی اور لالچ دیا جاتا رہا لیکن ان کے قدم بالکل نہ ڈگمگائے ۔ چوتھے دن بادشاہ نے پھر انہیں لالچ اور دھمکی دی لیکن وہ اپنے مذموم ارادے میں کامیاب نہ ہوسکا تو ا س نے بڑے بھائی کو جلتے ہوئے تیل میں ڈلوا دیا، پھر اس سے چھوٹے بھائی کو بھی نصرانیت قبول نہ کرنے پر جلتے ہوئے تیل میں ڈلوا دیا ،اب سب سے چھوٹے بھائی کی باری تھی جو کہ بڑے سکون و اطمینان کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے تھے، ایک گورنر نے آگے بڑھ کر بادشاہ سے کہا کہ اسے اسلام سے منحرف کرنے کی ذمہ داری میں لیتا ہوں، آپ مجھے چند دن کی مہلت دے دیں ۔ بادشاہ کے پوچھنے پر اس نے اپنا ناپاک منصوبہ بیان کیا تو بادشاہ بہت خوش ہوا اور اس مجاہد کو گورنر کے حوالے کر دیا۔ چنانچہ گورنر نے گھر آکر اپنی خوبصورت بیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ اپنے حسن و شباب کے ذریعے اس نوجوان کو اپنے دامِ فریب میں پھنسانے اور نصرانیت قبول کروانے کی کوشش کرے۔ بیٹی نے اس کی حامی بھر لی اور وہ خوب سج سنور کر اس مجاہد کے پاس گئی اوراسے بہکانے کی خوب کوشش کرنے لگی، لیکن ہوا یوں کہ وہ نوجوان ساری رات نماز اور تلاوتِ قرآن میں مشغول رہا اور دن میں بھی ذکرِ الٰہی کرتا رہا اور اس نے لڑکی کے حسن و شباب کی طرف آنکھ تک اٹھا کر نہ دیکھا۔ کئی دن کی مسلسل کوشش کے باوجود بھی جب وہ مجاہد گورنر کی بیٹی کی طرف مائل نہ ہوا تو اس لڑکی نے اپنے باپ سے کہا: یہ تو ہر وقت گُم سُم رہتا ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ