Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
171 - 601
جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے، اس تک جنت کی ہوا اور وہاں کی خوشبو آتی ہے اور تاحدِ نظر قبر میں فراخی کردی جاتی ہے ۔ اس کے بعد رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے کافر کی موت کا ذکر فرمایا کہ اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے اور اس کے پاس د و فرشتے آتے ہیں ، پھر وہ اسے بٹھاکر اس سے کہتے ہیں ’’ تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے میں نہیں جانتا۔ پھر اس سے پوچھتے ہیں’’ تیرا دین کیا ؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے میں نہیں جانتا ۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ’’ یہ کون صاحب ہیں جو تم میں بھیجے گئے ؟ وہ کہتا ہے :ہائے ہائے میں نہیں جانتا ۔ تب پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے کہ یہ جھوٹا ہے، لہٰذا اس کے لیے آگ کا بستر بچھائو ، اسے آگ کا لباس پہناؤ اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، پھر اس تک وہاں کی گرمی اوربو آتی ہے اور اس پر اس کی قبر تنگ ہوجاتی ہے حتّٰی کہ قبر میں اس کی پسلیاں ادھر کی ادھر ہوجاتی ہیں۔ پھر اس پر اندھے بہرے فرشتے مُسَلط کر دئیے جاتے ہیں جن کے پاس لوہے کے ہتھوڑے ہوتے ہیں، اگر ان سے پہاڑ کو مارا جائے تو وہ بھی مٹی ہوجائے، اس ہتھوڑے سے اسے ایسی مارمارتے ہیں جسے جن و اِنس کے سوا مشرق و مغرب کی ہرمخلوق سنتی ہے ، اس سے وہ مٹی ہوجاتا ہے، پھر اس میں روح لوٹائی جاتی ہے ۔ (1)’’ اَعَاذَنَااﷲُ تَعَالٰی مِنْ عَذَابِ القَبْرِ وَثَبِّتْنَاعَلَی الْاِیْمَانِ‘‘ یعنی قبر کے عذاب سے اللّٰہ تعالیٰ ہمیں محفوظ فرمائے اور اے اللّٰہ ہمیں ایمان پر ثابت قدمی نصیب فرما ،اٰمین۔
تین مجاہدین کی اسلام پر ثابت قدمی:
	یاد رہے کہ جو دنیا میں دینِ اسلام پر ثابت قدم رہے گا اسے ہی قبر میں اسلام پر ثابت قدمی نصیب ہو گی اور جو دنیا میں اسلام پر ثابت قدم نہ رہا اور مَصائب و مشکلات سے گھبرا کر یا کسی اور وجہ سے دینِ اسلام سے مُنحرف ہو گیا اور اسی حال میں مر گیا تو اسے قبر میں کسی صورت اسلام پر ثابت قدمی نصیب نہ ہو گی۔ ہمارے بزرگانِ دین کا حال یہ تھا کہ وہ دنیا کی سخت ترین تکالیف برداشت کرنا تو گوارا کر لیتے لیکن دینِ اسلام سے مُنحرف ہونا انہیں کسی صورت منظور نہ تھا، اسی سے متعلق  علامہ ابنِ جوزی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی کتاب ’’عیون الحکایات‘‘ میں تین بہادر بھائیوں کی ایک طویل حکایت ذکر کی ہے، اس کاخلاصہ یہ ہے کہ تین سگے بھائی روم کے عیسائیوں سے جہاد کی غرض سے جانے والے لشکر میں شامل ہوئے، دورانِ جہاد انہیں گرفتار کر کے روم کے بادشاہ کے دربار میں لے جایا گیا تو اس نے منصب و مرتبے اور عیش و عشرت کا لالچ دے کر انہیں نصرانی ہو جانے کی دعوت دی۔ بادشاہ کی دعوت سن کر انہوں نے جواب دیا ’’ہم اپنے دین کوکبھی بھی نہیں چھوڑ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابوداؤد، کتاب السنّۃ، باب فی المسألۃ فی القبر وعذاب القبر، ۴/۳۱۶، الحدیث: ۴۷۵۳۔