Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
170 - 601
یُثَبِّتُ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ یُضِلُّ اللہُ الظّٰلِمِیۡنَ ۟ۙ وَ یَفْعَلُ اللہُ مَا یَشَآءُ ﴿٪۲۷﴾ 
ترجمۂکنزالایمان:اللّٰہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور اللّٰہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللّٰہ جو چاہے کرے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اللّٰہ ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ثابت رکھتا ہے اور اللّٰہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللّٰہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
{یُثَبِّتُ اللہُ:اللّٰہ ثابت رکھتا ہے۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی میں کلمۂ ایمان پر ثابت رکھتا ہے  کہ وہ آزمائش اور مصیبت کے وقتوں میں بھی صبر کرتے ہیں، ایمان پر قائم رہتے ہیں اور راہِ حق اور سیدھے دین سے نہیں ہٹتے حتّٰی کہ ان کی زندگی کاخاتمہ ایمان پر ہوتا ہے اور آخرت یعنی قبر میں بھی اللّٰہ تعالیٰ انہیں ثابت رکھتا ہے کیونکہ قبر آخرت کی سب سے پہلی منزل ہے ۔ (1) قبر میں مومن کلمۂ ایمان پر کس طرح ثابت رہتا ہے اس کی تفصیل اس حدیثِ پاک میں ہے ،چنانچہ حضرت براء بن عازب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ مردے کے پاس دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے ہیں، پھر اس سے کہتے ہیں ’’ تیرا رب کون ؟ وہ کہتا ہے میرا رب اللّٰہ ہے، پھر کہتے ہیں تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے ’’ میرا دین اسلام ہے ، پھر وہ کہتے ہیں’’ یہ کون صاحب ہیں جو تم میں بھیجے گئے؟ وہ کہتا ہے’’ وہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہیں ۔ فرشتے کہتے ہیں ’’تجھے یہ کیسے معلوم ہوا ؟ وہ کہتا ہے’’ میں نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اور اسے سچا جانا ۔ یہ ہی اس آیت ’’یُثَبِّتُ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا‘‘ کی تفسیر ہے ۔ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ پھر آسمان سے پکارنے والا پکارتا ہے کہ میرا بندہ سچا ہے لہٰذا اس کے لیے جنت کا بستر بچھائو، اسے جنت کا لباس پہنائو اور اس کے لیے جنت کی طرف دروازہ کھول دو۔ چنانچہ اس کے لئے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1…روح البیان، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۷، ۴/۴۱۵، ملخصاً۔