Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
169 - 601
اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دریافت فرمایا تھا تو میرے دل میں آیا تھا کہ یہ کھجور کا درخت ہے لیکن جب میں نے دیکھا کہ بڑے بڑے صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمتشریف فرما ہیں اور وہ کوئی جواب نہیں دے رہے تو میں بھی خاموش رہا، حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ اگر تم بتادیتے تو مجھے بہت خوشی ہوتی۔ (1)
{وَ یَضْرِبُ اللہُ الۡاَمْثَالَ لِلنَّاسِ:اور اللّٰہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ لوگوں کے لئے مثالیں اس لئے بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ایمان لائیں کیونکہ مثالوں سے معنی اچھی طرح دل میں اتر جاتے ہیں۔ (2) 
وَمَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیۡثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیۡثَۃِۣ جْتُثَّتْ مِنۡ فَوْقِ الۡاَرْضِ مَا لَہَا مِنۡ قَرَارٍ ﴿۲۶﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور گندی بات کی مثال جیسے ایک گندہ پیڑ کہ زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا اب اسے کوئی قیام نہیں۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور گندی بات کی مثال اس گندے درخت کی طرح ہے جوزمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہو تو اب اسے کوئی قرار نہیں۔ 
{وَمَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیۡثَۃٍ:اور گندی بات کی مثال۔} اس آیت میں مذکور مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ گندی بات یعنی کفریَہ کلام کی مثال اندرائن جیسے کڑوے مزے اور ناگوار بو والے پھل کے درخت کی طرح ہے جوزمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہو تو اب اسے کوئی قرار نہیںکیونکہ اس کی جڑیںزمین میں ثابت و مستحکم نہیںاور نہ ہی اس کی شاخیں بلند ہوتیں ہیں یہی حال کفریہ کلام کا ہے کہ اس کی کوئی اصل ثابت نہیں اور وہ کوئی دلیل وحجت نہیں رکھتا جس سے اسے استحکام ملے اورنہ اس میں کوئی خیر وبرکت ہے کہ وہ قبولیت کی بلندی پر پہنچ سکے۔ (3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ ابراہیم، باب کشجرۃ طیّبۃ اصلہا ثابت۔۔۔ الخ، ۳/۲۵۳، الحدیث: ۴۶۹۸۔
2…جلالین، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۲۰۸، خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳/۸۲، ملتقطاً۔
3…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳/۸۲، ملخصاً۔