ترجمۂکنزُالعِرفان:کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللّٰہ نے کلمہ پاک کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے جیسے ایک پاکیزہ درخت ہو جس کی جڑقائم ہو اور اس کی شاخیں آسمان میںہوں۔ ہر وقت اپنے رب کے حکم سے پھل دیتا ہے اور اللّٰہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ سمجھیں۔
{اَلَمْ تَرَ:کیا تم نے نہ دیکھا ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے مومنین اور کفار کی دو مثالیں بیان فرمائی ہیں ،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کے ابتدائی حصے میں مذکور مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح کھجور کے درخت کی جڑیں زمین کی گہرائی میں موجود ہوتی ہیں اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے ہر وقت پھل دیتا ہے ایسے ہی کلمۂ ایمان ہے کہ اس کی جڑ مومن کے دل کی زمین میں ثابت اور مضبوط ہوتی ہے اور اس کی شاخیں یعنی عمل آسمان میں پہنچتے ہیں اور اس کے ثَمرات یعنی برکت و ثواب ہر وقت حاصل ہوتے ہیں۔(1)
پاکیزہ بات اور پاکیزہ درخت:
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ (اس آیت میں) پاکیزہ بات سے ’’لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘ کہنا مراد ہے اور پاکیزہ درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے۔ (2) پاکیزہ درخت سے متعلق اور بھی اقوال ہیں۔
مومن مرد کی مثال درخت:
حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں’’ہم سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے ارشاد فرمایا ’’مجھے اس درخت کے بارے بتاؤ جو مردِ مومن کی مثل ہے، اس کے پتے نہیں گرتے اور وہ ہروقت پھل دیتا ہے ؟حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن جب میں نے یہ دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا جیسے صحابہ خاموش ہیں تو مجھے کلام کرنا مناسب نہ لگا، جب صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے کوئی جواب نہ دیا توحضور ِاقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’وہ کھجور کا درخت ہے۔ مجلس برخاست ہونے کے بعد میں نے اپنے والد ماجد حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے عرض کی ’’ جب حضور پُر نور صَلَّی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۴، ۳/۸۱-۸۲، ملخصاً۔
2…خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۴، ۳/۸۱۔