رواں ہمیشہ ان میں رہیں اپنے رب کے حکم سے اس میں ان کے ملتے وقت کا اکرام سلام ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہ جنتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے ، وہاںاُن کی ملاقات کی دعا ،سلام ہے۔
{اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا:جو ایمان لائے۔} اس سے پہلی آیتوں میں اللّٰہ تعالیٰ نے کافر اور بدکار لوگوں کے حالات تفصیل سے بیان فرمائے اور اس آیت میں مومن اور نیکوکار لوگوں کے حالات بیان فرما رہا ہے، چنانچہ اس آیت میں بیان فرمایا کہ ایمان قبول کرنے اور نیک اعمال کرنے والوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے اِذن سے جنت کی دائمی نعمتیں عطا کی جائیں گی اور اللّٰہ تعالیٰ کے اِذن سے انہیں نعمتیں عطا ہونا بھی ان کے حق میں ایک طرح کی تعظیم ہے اور وہ خود بھی ایک دوسرے کی تعظیم کرتے ہوئے آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں گے،فرشتے بھی ان کی تعظیم کرتے ہوئے انہیں سلام کریں گے اور اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے بھی انہیںسلام کہا جائے گا۔ جنت میں سلام کا معنی یہ ہے کہ وہ دنیا کی آفتوں،حسرتوں یا دنیا کی بیماریوں،دردوں، غموں اور پریشانیوں سے سلامت ہو گئے اور دنیا کے فانی جسموں سے نکل کر جنت کے دائمی جسموں میں منتقل ہو جانا اللّٰہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ (1)
اَلَمْ تَرَکَیۡفَ ضَرَبَ اللہُ مَثَلًاکَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِیۡ السَّمَآءِ ﴿ۙ۲۴﴾ تُؤْتِیۡۤ اُکُلَہَا کُلَّ حِیۡنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّہَا ؕ وَ یَضْرِبُ اللہُ الۡاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا تم نے نہ دیکھا اللّٰہ نے کیسی مثال بیان فرمائی پاکیزہ بات کی جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ قائم اور شاخیں آسمان میں۔ ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے اور اللّٰہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں وہ سمجھیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۳، ۷/۸۹، ملخصاً۔