میں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی قوم کے مشرکین کے لئے وعید ہے کہ اگر وہ اپنے کفر اور رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے خلاف جرأت کرنے سے باز نہ آئے تو ان کا انجام بھی سابقہ امتوں کے کافروں جیساہو گا ، اور حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے لئے ان آیات میں ثابت قدمی کی ترغیب اور ان کی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیّتوں پر صبر کی تلقین ہے کہ جس طرح سابقہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی امتوں کے کفار کی زیادتیوں اور ظلم وستم پر صبر کیا اسی طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ بھی اپنی امت کے کفار کی اذیتوں پر صبر فرمائیں ،انجام کار یہ ہوگا کہ اللّٰہ تعالیٰ ان کافروں کو ہلاک کر دے گا اور آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو فتح و نصرت عطا فرمائے گا،سابقہ امتوں میں اللّٰہ تعالیٰ کا یہی طریقِ کار رہا ہے۔ (1)
{ذٰلِکَ لِمَنْ:یہ اس کیلئے ہے جو۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے جویہ وحی فرمائی ہے کہ وہ ظالموں کو ہلاک کرنے کے بعد مومنوں کو ان کی سرزمین میں آباد کر دے گا، یہ بشارت اس کے لئے ثابت ہے جو قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونے سے ڈرتا ہو اور اللّٰہ تعالیٰ نے آخرت میں اپنے عذاب کے بارے میں جو بتایا ہے اس سے خوفزدہ ہو، اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہواور اسے ناراض کرنے والے کاموں سے بچتا ہو۔ (2)
وَاسْتَفْتَحُوۡا وَخَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیۡدٍ ﴿ۙ۱۵﴾ مِّنۡ وَّرَآئِہٖ جَہَنَّمُ وَیُسْقٰی مِنۡ مَّآءٍ صَدِیۡدٍ ﴿ۙ۱۶﴾ یَّتَجَرَّعُہٗ وَ لَا یَکَادُ یُسِیۡغُہٗ وَیَاۡتِیۡہِ الْمَوْتُ مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ وَّمَا ہُوَ بِمَیِّتٍ ؕ وَمِنۡ وَّرَآئِہٖ عَذَابٌ غَلِیۡظٌ ﴿۱۷﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور انہوں نے فیصلہ مانگا اور ہر سرکش ہٹ دھرم نا مُراد ہوا۔ جہنم اس کے پیچھے لگی اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔ بمشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا اور گلے سے نیچے اتارنے کی امید نہ ہوگی اور اسے ہر طرف سے موت آئے گی اور مرے گا نہیں اور اس کے پیچھے ایک گاڑھا عذاب۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ1…تفسیر طبری، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۴، ۷/۴۲۶۔
2…تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۴، ۷/۷۷، طبری، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۴، ۷/۴۲۶، ملتقطاً۔